رسائی کے لنکس

پاکستان کے کئی نجی ٹی وی چینلز نے نمایاں انداز میں یہ خبریں نشر کیں کہ سعودی عرب کی حکومت پر تنقید کرنے کے جرم میں زید حامد کو ایک ہزار کوڑے رسید کرنے اور آٹھ سال قید کی سزا ہوئی ہے

پاکستان کے سیاسی تجزیہ نگار اور سخت مؤقف رکھنے کے حوالے سے مشہور مبصر زید حامد کو سعودی عرب میں ایک ہزار کوڑوں کی سزا اور آٹھ ماہ کی قید کے حوالے سے بدھ کو ملکی ابلاغ عامہ اور سماجی میڈیا میں افواہیں گردش کرتی رہیں۔

پاکستان کے کئی نجی ٹی وی چینلز نے نمایاں انداز میں یہ خبریں نشر کیں کہ سعودی عرب کی حکومت پر تنقید کرنے کے جرم میں زید حامد کو ایک ہزار کوڑے رسید کرنے اور آٹھ سال قید کی سزا ہوئی ہے۔ تاہم، وائس آف امریکہ کے نمائندے نے جب سعودی عرب کے سرکاری حوالوں سے خبر کی تصدیق چاہی تو معلوم ہوا کہ سزا سے متعلق خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔

سعودی عرب میں مقیم سینئر صحافی شاہد نعیم نے بتایا کہ حکومتی جانب سے سزا سے متعلق کوئی فیصلہ ابھی تک سامنے نہیں آیا۔ تاہم، بدھ کو زید حامد کو پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے دی جانے والی سہولت کے تحت ان کی اہلیہ طیبہ بخاری نے اپنے شوہر سے جیل میں ملاقات کی۔

زید حامد کو جون کے آخری عشرے میں مدینہ منورہ میں حکومتی پالیسی پر تنقید کے خلاف حراست میں لیا گیا تھا۔ تاہم، معاملہ ابھی تک انوسٹی گیشن بیورو میں زیر تفتیش ہے۔ سعودی قانون کے مطابق، تفتیش مکمل ہونے کے بعد معاملہ عدالت منتقل ہوتا ہے اور سزا دینے یا نہ دینے سے فیصلہ قاضی (جج) کرتا ہے۔

سعودی قانون کے تحت حکومت کے خلاف تنقید کی سزا قید، جرمانا، کوڑے مارنا یا ملک بدری ہے۔

ایکسپریس نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق، زید حامد گزشتہ ماہ اپنی اہلیہ کے ہمراہ عمرے کی ادائیگی کے لئے سعودی عرب گئے تھے جہاں انہیں یمن کے تنازعے پر سعودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنانے پر گرفتار کیا گیا تھا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ نے بھی 26جون کو زید حامد کی گرفتاری سے متعلق خبر کی تصدیق کی تھی اور کہا تھا کہ سفارتی حکام زید حامد تک رسائی کے لئے سعودی حکام سے رابطے میں ہیں۔

XS
SM
MD
LG