رسائی کے لنکس

لکھوی کی حراست پر وفاقی سیکرٹری داخلہ کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم


ذکی الرحمن لکھوی (فائل فوٹو)

ذکی الرحمن لکھوی (فائل فوٹو)

یہ حکم اسلام آباد ہائی کورٹ نے بدھ کو لکھوی کی طرف سے ان افسران کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کے لیے دائر درخواست کی سماعت کے بعد دیا۔

پاکستان کی ایک عدالت نے ممبئی حملوں کے مبینہ منصوبہ ساز ذکی الرحمن لکھوی کو تحویل میں رکھنے کے معاملے پر وفاقی سیکرٹری داخلہ اور پنجاب کے ایک ضلعی رابطہ افسر کو عدالت کے روبرو پیش ہونے کا حکم دیا۔

یہ حکم اسلام آباد ہائی کورٹ نے بدھ کو لکھوی کی طرف سے ان افسران کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کے لیے دائر درخواست کی سماعت کے بعد دیا۔

ذکی الرحمن لکھوی کے وکیل رضوان عباسی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ چونکہ عدالت پہلے ہی ان کے موکل کی نظربندی کو کالعدم قرار دے چکی ہے اور حکومت نے عدالت کو بتایا تھا کہ ملزم کو دوبارہ حراست میں لینے سے متعلق عدالت عالیہ کو آگاہ کیا جائے گا لیکن حکام نے ایسا نہیں کیا۔

ان کا کہنا تھا یہ توہین عدالت کا معاملہ بنتا ہے اس لیے اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی سیکرٹری داخلہ اور اوکاڑہ کے ضلعی رابطہ افسر کو ذاتی حیثیت میں 14 اپریل کو عدالت کے روبرو پیش ہونے کا حکم دیا۔

ملزم کو گزشتہ سال دسمبر میں ایک عدالت نے ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا جس کے بعد حکام نے انھیں خدشہ نقض امن عامہ کے قانون کے تحت ایک ماہ کے لیے دوبارہ تحویل میں لے لیا جس میں بعد ازاں تین بار ایک، ایک ماہ کی توسیع کی جا چکی ہے۔

ذکی الرحمن لکھوی پر ممبئی حملوں کی سازش میں ملوث ہونے اور اسلام آباد میں ایک شخص کے اغوا کے مقدمات زیر سماعت ہیں اور ان دونوں میں ان کی ضمانت ہو چکی ہے۔

رواں ماہ ہی اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکم دیا تھا کہ اگر ملزم کے خلاف کوئی اور مقدمہ نہیں ہے تو اسے رہا کیا جائے لیکن حکام نے انھیں تیسری مرتبہ خدشہ نقض امن عامہ کے قانون کے تحت نظر بند کر دیا تھا۔

ملزم کا تعلق ضلع اوکاڑہ سے ہے اور ان کی نظربندی کے احکامات اس علاقے کے ضلعی رابطہ افسر نے جاری کیے تھے۔

ذکی الرحمن لکھوی کے عدالتی معاملے کو لے کر پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ مہینوں میں تلخ بیانات کا تبادلہ بھی ہو چکا ہے جب کہ ایک دوسرے کے سفارتکاروں کو دفترخارجہ طلب کر کے ان سے اپنے احتجاج اور تحفظات کا تبادلہ بھی کیا جاچکا ہے۔

بھارت 26 نومبر 2008ء کو اپنے اقتصادی مرکز ممبئی میں ہونے والے دہشت گرد حملے کا الزام پاکستان میں موجود کالعدم تنظیم لشکر طیبہ پر عائد کرتا ہے اور اس کا اصرار ہے کہ پاکستان اپنے ہاں قید ملزمان کے خلاف مقدمے کو جلد منطقی انجام تک پہنچائے۔

لکھوی کی ضمانت پر رہائی کے بعد بھارت کی طرف سے اس پر شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا تھا جب کہ پاکستانی حکومت نے ضمانت پر رہائی کے فیصلے کے خلاف بھی درخواست دائر کر رکھی ہے جس کی سماعت جمعرات کو شروع ہوگی۔

اسلام آباد یہ کہہ چکا ہے کہ وہ ممبئی حملوں کی سازش میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار افراد کے خلاف عدالتی کارروائی کر رہا ہے لیکن اس کے بقول اس میں تاخیر مبینہ طور پر بھارت کی طرف سے ہورہی ہے جو کہ درکار قانونی دستاویزات اور دیگر معاملات میں تعاون نہیں کر رہا۔

ممبئی حملوں میں غیر ملکیوں سمیت 166 افراد ہلاک ہوئے تھے جب کہ 10 حملہ آوروں میں سے واحد زندہ بچ جانے والے دہشت گرد اجمل قصاب کو بھارت میں سزائے موت دی جا چکی ہے۔

پاکستان نے 2009ء میں ذکی الرحمن لکھوی اور دیگر چھ افراد کو اس حملے کی سازش میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

XS
SM
MD
LG