رسائی کے لنکس

’حاجی صاحب‘ کا گھرانہ ’صرف‘ تین بیویاں اور 36 بچوں تک ہی محدود نہیں، بلکہ وہ ایسے خوش قسمت انسان ہیں جو کرکٹ کی طرح اہل خانے کی تعداد میں سنچری بناچکے ہیں

شمالی وزیرستان آپریشن حاجی گلزار خان کے لئے کسی ’رقیب روسیاہ‘ سے کم ثابت نہیں ہوا۔ معاملات اچھے خاصے چل رہے تھے، تین بیویوں اور 36بچوں کے ساتھ زندگی ’خوشی خوشی‘ کٹ رہی تھی کہ درمیان میں جانے کہاں سے آپریشن کی ہوا چل پڑی اور اس ’غریب‘ کی چوتھی شادی کے خواب چکنا چور ہوگئے۔

آگے بڑھنے سے پہلے یہ بھی سن لیجئے کہ’حاجی صاحب‘ کا گھرانہ ’صرف‘ تین بیویاں اور 36بچوں تک ہی محدود نہیں بلکہ وہ ایسے خوش قسمت انسان ہیں جو کرکٹ کی طرح اہل خانے کی تعداد میں سنچری بناچکے ہیں۔ اگر ان کے پوتے، پوتیوں اور نواسے، نواسیوں کو بھی جمع کر لیا جائے تو 100کا ہندسہ عبور ہوجاتا ہے۔

حاجی گلزار کو آپریشن ضرب عضب کے سبب ہی اپنے علاقے شاوا میں بنے 35 کمروں کے مکان کو چھوڑ کر بنوں کے 17 کمروں والے گھر میں مجبوراًشفٹ ہونا پڑا۔ ستم بالائے ستم یہ کہ اس بے وقت کی نقل مکانی میں چوتھی شادی کے لئے پس انداز کی گئی رقم بھی خرچ ہوگئی۔۔۔۔اور حاجی گلزار کو سب سے بڑا رنج یہی ہے۔

گلزار خان کے ہر بیوی سے ایک درجن یعنی بارہ بچے ہیں۔چون سالہ گلزار خان نے پہلی شادی سترہ سال کی عمر میں اپنی کزن سے کی تھی جس کی عمر چودہ سال تھی۔ اس سے ان کی آٹھ بیٹیاں اورچاربیٹے ہیں۔

آٹھ سال گزرنے کے بعد انہوں نے دوسری شادی سترہ سالہ لڑکی سے کی جبکہ تیسری شادی اپنے بھائی کی بیوہ سے کی۔ گلزار خان کا بھائی اپنی شادی کے صرف ایک مہینے بعد ہی ایک جھگڑے کے دوران مارا گیا تھا۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی، اے ایف پی سے بات چیت میں جب گلزار خان سے بچوں کی تعداد کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے اطمینان سے جواب دیا ’میں نے شادیاں کی ہیں، کوئی غلط کام اور گناہ تو نہیں کیا۔ میری تینوں بیویوں نے مجھے چوتھی شادی کی اجازت بھی دے رکھی ہے۔ میری تینوں بیویوں میں بہت اتفاق ہے۔ ہم سب ایک ہی چھت تلے رہتے ہیں۔‘

بچوں کی زیادہ تعداد کوئی مسئلہ تونہیں بنتی، اس بارے میں گلزار خان نے نہایت معصومیت سے جواب دیا ”بس یہ یاد رکھنا بڑا مشکل ہوتا ہے کہ کس بچے کی ماں کون سی ہی“

گلزارخان 1976سے لے کر 1992تک دبئی میں ٹیکسی چلاتے تھے ۔ اب ان کے دو بیٹے دبئی میں ٹیکسی ڈرائیورہیں اورہرمہینے 50000 روپے بھیجتے ہیں۔ گلزارخان کے شاوا اوربنوں میں کھیت بھی ہیں، ان سب کی آمدنی سے گلزار خان کے گھرکا خرچ باآسانی چلتا ہے۔

گلزارخان کے 14 سالہ بیٹے غفران خان بھی اپنے والد کے نقش قدم پر چلنے کا عزم کئے ہوئے ہیں۔ غفران کا کہنا ہے کہ وہ بھی بہت سی شادیاں کریں گے اوران کے بچوں کی تعداد اپنے والد کے بچوں سے بھی زیادہ ہوگی۔

XS
SM
MD
LG