رسائی کے لنکس

پاکستان اور برطانیہ کا انسداد دہشت گردی میں تعاون کا عزم

  • یاسر منصوری

جمعہ کے روز دارالحکومت لندن کے قریب چیکرز میں برطانوی وزیر اعظم کی رہائش گاہ پر باضابطہ مذاکرات کے بعد دونوں رہنماؤں نے میڈیا سے مختصر گفتگو میں بتایا کہ ملاقات انتہائی مثبت رہی اور اس میں باہمی دلچسپی کے تمام امور زیر بحث آئے۔

پاکستانی صدر آصف علی زرداری اور برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے دوطرفہ تعلقات مزید بہتر بنانے پر اتفاق کرتے ہوئے انسداد دہشت گردی کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کے عزم کو دہرایا ہے۔

جمعہ کے روز دارالحکومت لندن کے قریب چیکرز میں برطانوی وزیر اعظم کی رہائش گاہ پر باضابطہ مذاکرات کے بعد دونوں رہنماؤں نے میڈیا سے مختصر گفتگو میں بتایا کہ ملاقات انتہائی مثبت رہی اور اس میں باہمی دلچسپی کے تمام امور زیر بحث آئے۔

اْن کا کہنا تھا کہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان کبھی ناختم ہو سکنے والے تعلقات ہیں اور انھوں نے ایسے موضوعات پر تبادلہ خیال کیا ہے جن کے ذریعے باہمی شراکت داری بڑھائی جا سکے۔

صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان اور برطانیہ درپیش مشکلات کا سامنا کرنے کے لیے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کی کوشش ہو گی کہ آنے والی نسلیں اس دنیا کو ایک بہتر جگہ پائیں۔ انھوں نے بتایا کہ پاکستان برطانیہ سے ایسے تعلقات کا خواہاں ہے جہاں برطانیہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے موقف کی حمایت کرے۔

صدر زرداری نے برطانیہ کی جانب سے سیلاب زدگان کے لیے دی گئی امداد کو بھی سراہا۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ برطانیہ پاکستان کو یورپی منڈیوں تک رسائی میں مدد فراہم کرے تا کہ ملک خود انحصاری کی جانب بڑھ سکے۔

وزیر اعظم کیمرون کاکہنا تھا کہ ان کی حکومت کی اولین ترجیح برطانوی شہریوں کا تحفظ ہے چاہے وہ افغانستان میں جنگ لڑ رہے ہوں یا برطانیہ میں موجود ہوں۔

مبصرین کی رائے میں صدر زرداری اور وزیر اعظم کیمرون کے تازہ بیانات اس تلخی کو دور کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے جو برطانوی رہنما کی جانب سے بھارت کے حالیہ دورے میں پاکستان پر دہشت گردی کو فروغ دینے کے حوالے سے کی گئی الزام تراشی کے بعد پیدا ہوئی تھی۔

ڈیوڈ کیمرون کی طرف سے لگائے گئے الزام پر پاکستان میں شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے اور پاکستان کے سیاسی حلقے صدر زرداری سے یہ دورہ احتجاجاًمنسوخ کرنے کا مطالبہ کرتے رہے۔

ناقدین کی رائے میں سیلاب کی تباہی اور سرکاری سطح پر امدادی کارروائیوں میں سست روی پر پیپلز پارٹی کی حکومت پرتنقید میں اضافے کے باوجود صدر زرداری کا غیر ملکی دورے پر جانااور خاص طور پر برطانوی وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات کرنا ایک بڑی سیاسی غلطی ثابت ہو سکتی ہے۔

بلاول بھٹوزرداری (فائل فوٹو)

بلاول بھٹوزرداری (فائل فوٹو)

دریں اثنا حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے نو عمر سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ نہ تو وہ برطانیہ کے شہر برمنگھم میں ہفتہ کو منعقد ہونے والے پارٹی کے سیاسی اجتماع میں شرکت کررہے ہیں اور نہ ہی فی الحال وہ عملی سیاست میں قدم رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

جمعرات کی شب لندن میں جاری کیے گئے اپنے بیان میں انھوں نے کہا کہ اُن کے سیاست میں قدم رکھنے کے بارے میں اب تک جو بھی خبریں ذرائع ابلاغ میں شائع کی گئی ہیں وہ سب غلط ہیں۔

سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کی دسمبر 2007ء میں ایک دہشت گردنہ حملے میں ہلاکت کے بعد اُن کے بیٹے بلاول بھٹو زرداری کو پارٹی کا چیئرمین منتخب کیا گیا تھا ۔ انھوں نے حال ہی میں برطانیہ کی ممتاز آکسفورڈ یونیورسٹی سے ”تاریخ “کی ڈگری حاصل کی ہے۔

21 سالہ بلاول بھٹو نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ وہ قانون کی تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں اور ان کی میڈیا سے گذارش ہوگی کہ جس طرح گذشتہ سالوں میں صحافی ان کے معمولات زندگی میں مخل نہیں ہوئے اسی طرح یہ سلسلہ اْس وقت تک جاری رہے جب تک وہ اعلیٰ تعلیم مکمل نہیں کر لیتے۔

انھوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں وہ میڈیا، بین الاقوامی حلقوں اور خصوصاً پاکستانی عوام کے ساتھ مل کر جمہوریت کے فروغ اور انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG