رسائی کے لنکس

زرداری کیمرون ملاقات: قیام ِ امن کےلیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر زور

  • عادل زیب

پاکستان اور برطانیہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کرتے ہوئے کہا ہے کہ شدت پسندی کے خاتمے اور خطے میں قیامِ امن کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

پاکستانی صدر آصف علی زرداری اور برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون کے مابین 10ڈاؤننگ اسٹریٹ میں کی گئی ملاقات میں دونوںٕ ممالک نے دفاع، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں تعاون سمیت تجارتی تعلقات کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے جامع منصوبہ بندی کرنےکا فیصلہ کیا ہے۔

صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر کے مطابق دونوں راہنماؤں کے درمیان کی گئی ملاقات میں پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف کیے گئے اقدامات، افغانستان میں نیٹو اور امریکی افواج کے انخلا اور افغان صدر حامد کرزئی کی جانب سےشروع کی گئی قیامِ امن کی کوششوں میں پاکستان کے کردار پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔

ترجمان کے مطابق صدر زرداری نے برطانوی وزیرِ اعظم کو بتایا کہ خطے میں قیامِ امن اور استحکام کےلیے پاکستان نے ہمیشہ مثبت کردار ادا کیا ہے اور اب بھی وہ بھارت اور افغانستان سمیت تمام ہمسایہ ممالک سےبات چیت اور اہم امور پر پیش رفت کے لیے تیار ہے۔

صدر زرداری نے افغانستان اور پاکستان کو ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کو دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ایک دوسرے سے تعاون کرنا ہوگا اور وہ یقین دلاتے ہیں کہ افغانستان میں قیامِ امن کے لیے جاری کوششوں کی پاکستان کی ہر سطح پر حمایت کرتا رہے گا۔

اِس موقعے پر برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ برطانیہ ایک قریبی دوست کی حیثیت سے سلامتی کے امور اور مضبوط تجارتی روابط استوار کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے ساتھ ہر شعبے میں تعاون کے لیے تیار ہے۔

برطانوی وزیرِ اعظم نے پاکستانی صدر کو یقین دلایا کہ یورپی منڈیوں تک پاکستانی مصنوعات کی رسائی میں درپیش رکاوٹیں ختم کرنے میں بھی وہ اپنا کردار ادا کریں گے۔

دونوں راہنماؤں کے درمیان ہونے والی بات چیت میں تعلیمی میدان میں حال ہی میں شروع کیے گئے چار سالہ منصوبہ بھی زیرِ غور آیا جس کے تحت برطانیہ پاکستان کو 40لاکھ بچوں کی بنیادی تعلیم تک رسائی اور 90000اساتذہ کی تربیت میں مدد فراہم کرے گا۔

XS
SM
MD
LG