رسائی کے لنکس

زرداری کی چیف جسٹس پر تنقید


صدر زرداری (فائل فوٹو)

صدر زرداری (فائل فوٹو)

صدر آصف علی زرداری نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری پر کھلے عام تنقید کرتے ہوئے اُن پر بالواسطہ طور پر یہ الزام لگایا ہے کہ وہ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں سےمتعلق مقدمات کو نظر انداز کر دیتے ہیں مگر اُس کے مخالفین کے مقدمات پر فوری طور پر توجہ دیتے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار اُنھوں نے منگل کو اپنی مقتول اہلیہ اور پاکستان کی سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی چوتھی برسی کے موقع پر گڑھی خدا بخش میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

پاکستانی صدر کا کہنا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو عدلیہ نے موت کی سزا سنا کر پھانسی پر لٹکا دیا تھا اور اس فیصلے کا ازسر نو جائزہ لینے کے لیے اُنھوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے لیکن چیف جسٹس اس پر کوئی توجہ نہیں دیتے۔

’’عدالتیں میرے ماتحت نہیں ہیں، کاش ایسا ہوتا کے ہوتیں، مگر میرے ماتحت نہیں ہیں۔ میرا یک وزیر ڈیڑھ سال سے آپ کے پاس جیل میں پڑا ہے وہ آپ کو نظر نہیں آتا۔ آپ کو دوسرے کیس بڑے جلدی نظر آجاتے ہیں۔ ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ ان اکھاڑوں میں ہم نے پرانے پہلوان جو چت کیے تھے وہ بھی کوئی ہمارے تھوڑی ہی تھے۔ وہ بھی ہمارے مخالف تھے۔‘‘

صدر زرداری کے بقول اگر وقت آیا تووہ چیف جسٹس کےسامنے بھی جائیں گے۔ ’’آپ بھی کر دیجئے گا جو کرنا ہے ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے مگر آئین میں رہتے ہوئے۔‘‘

میمو اسکینڈل کے منظر عام پر آنے کے بعد فوج اور حکومت میں بڑھتی ہوئی سرد مہری میں اضافے کے با وجود صدر نے اپنے خطاب میں فوج پر بات نہیں کی بلکہ ان کی تمام تو توپوں کا رخ عدلیہ اور اپنے سیاسی مخالفین بالخصوص عمران خان کی تحریک انصاف کی طرف رہا ۔ تاہم صدر کی زیاد ہ تر تقریر بے ربط رہی۔

اپنے خطاب میں صدر زرداری نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے صوبہ سرحد کا نام بدل کر پشتونوں کو ان کی پہچان دی لیکن جنوبی پنجاب کے لوگ تخت لاہور سے اپنا حق مانگ رہے ہیں۔ صدر نے کہا کہ وہ خبروں کی سرخی نہیں تاریخ بنانا چاہتے ہیں ۔

صدر کا کہنا تھا کہ دنیابھر میں اقتصادی بحران ہے اور پاکستان بھی اقتصادی مشکلات کا شکار ہے۔ تاہم وہ ملک کو مشکل حالات سے نکالنے کے لئے کسی بھی ملک سے تجارت کریں گے ۔

ادھربے نظیر بھٹو کی چوتھی برسی کے موقع پر منگل کو ملک کے مختلف حصوں سے پیپلز پارٹی کے کارکنان بڑی تعداد میں گڑھی خدا بخش پہنچے۔ اس موقع پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات رہے اور تقریباً چھ ہزار پولیس اور رینجرز کے اہلکار حفاظت پرمامور تھے۔

XS
SM
MD
LG