رسائی کے لنکس

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے بدھ کو متنازع سیاچن گلیشیئر کے گیاری سیکٹر کا دورہ کیا جہاں اُنھیں منوں برف تلے دبے درجنوں فوجیوں اور اُن کے سویلین عملے تک رسائی کے لیے جاری کوششوں پر بریفنگ دی گئی۔

اس موقع پر فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور وفاقی وزیر داخلہ رحمٰن ملک بھی صدر مملکت کے ہمراہ تھے۔

گیاری سیکٹر میں قائم سکس ناردرن لائٹ انفنٹری کا بٹالین ہیڈ کوارٹرز 7 اپریل کو ایک بہت بڑے برفانی تودے کی زد میں آ گیا تھا، جس کی وجہ سے یہ تنصیب اور اس پر تعینات 140 افراد کم از کم 80 فٹ برف تلے دب گئے۔

اس سانحہ کے فوری بعد امدادی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا گیا جن میں مقامی ٹیموں کو غیر ملکی ماہرین کی معاونت بھی حاصل ہے، لیکن 12 روز کی مسلسل کوششوں کے باوجود ہیڈ کوارٹرز کی عمارت تک رسائی نہیں ہو سکی ہے۔

امدادی سرگرمیوں میں شریک افراد کو گیاری سیکٹر میں منفی 15 ڈگری سینٹی گریڈ تک کے درجہ حرارت کا سامنا ہے جب کہ برف باری، یخ بستہ ہواؤں اور ارد گرد چھوٹے برفانی تودے گرنے کی وجہ سے ان کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

فوجی حکام کا کہنا ہے کہ برف میں کھودی گئی سرنگوں میں زہریلی گیس کی موجودگی بھی امدادی مہم کو متاثر کر رہی ہے۔

آرمی چیف جنرل کیانی نے 8 اپریل کو متاثرہ علاقے کے دورے کے موقع پر کہا تھا کہ برف میں پھنسے افراد کو نکالنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں، اور اُنھوں نے بدھ کے روز اس عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ ’’اگر ہمیں (برف اور پتھروں کے) اس پہاڑ کو بھی کھودنا پڑا تو ہم کھودیں گے‘‘۔

XS
SM
MD
LG