رسائی کے لنکس

الیکشن کمشین کے پاس انتخابات کے حتمی نتائج کا اعلان کرنے کے لیے آئندہ پیر تک کا وقت ہے۔

زمبابوے کے وزیراعظم مورگن سوانگیرائی نے باضابطگیوں کا الزام لگاتے ہوئے صدارتی انتخابات کے نتائج کو ’’مضحکہ خیز‘‘ قرار دیا ہے۔

جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے ایک بار پھر صدر رابرٹ موگابے پر دھاندلی کے الزام کو دہرایا۔ صدر ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں اور ان کے حامیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ مسٹر موگابے کو فتح حاصل ہوئی ہے۔

انتخابات کی نگرانی کرنے والے الیکشن اسپورٹ نیٹ ورک نے بھی انتخابات پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اس کی ایک عہدیدار ارین پیٹرسن نے کہا ہے کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو ووٹ ڈالنے سے روکا گیا۔

دریں اثناء بدھ کو ہونے والے انتخابات کے ووٹوں کی گنتی جاری ہے اور الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ قابل اعتماد نتائج سامنے آئیں گے۔

صدارتی انتخاب میں موجود صدر رابرٹ موگابے اور وزیراعظم مورگن سوانگیرائی کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔

زمبابوے کے الیکشن کمیشن کی سربراہ ریٹا ماکاراؤ نے صحافیوں کو بتایا کہ جزوی نتائج کا اعلان جلد متوقع ہے۔

’’مجھے یقین ہے کہ انتخابات آزادانہ اورشفاف ہیں اور میرا خیال ہے کہ اس بارے میں سامنے آنے والی رپورٹس بھی میرے اس نکتہ نظر سے ملتی ہوں گی۔‘‘

صدر موگابے 1980ء سے ملک کے صدر چلے آرہے ہیں اور 2008ء میں متنازع انتخابات کے بعد وزیراعظم سوانگیرائی کے ساتھ وہ ایک ’حساس شراکت اقتدار‘ میں شریک ہیں۔

مسٹر سوانگیرائی کی جماعت نے الیکشن کمیشن پر صدر موگابے کی جماعت کے حق میں انتخابات میں دھاندلی کا الزام عائد کیا ہے لیکن وزیراعظم نے اپنا ووٹ ڈالنے کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ وہ اپنی فتح کے لیے پرامید ہیں۔

’’ یہ زمبابوے کے عوام کے لیے ایک تاریخی موقع ہے۔ آپ نے دیکھا کہ تمام امیدوار آخر کار سیاسی بحران کو حل کر رہے ہیں۔ لہذا ہمیں امید ہے کہ ہر کسی کو اس تبدیلی کو وقوع پذیر کرنے کا وقت دیا جائے گا جس کے لیے ہم 14 سال سے لڑ رہے ہیں۔‘‘

یہ تیسرا موقع ہے کہ مسٹرسوانگیرائی صدر موگابے کے مدمقابل ہیں۔ 2008ء کے انتخابات کے پہلے مرحلے میں انھیں فتح ہوئی لیکن دوسرے مرحلے میں مطلوبہ ووٹ حاصل کرنے میں ناکام رہے۔

دوسرا مرحلہ مسٹر موگابے کی طرف سے فتح کے دعوے کے بعد پر تشدد واقعات کی وجہ سے متاثر ہوا۔ بعد ازاں افریقی رہنماؤں نے دونوں کو 2009ء میں اقتدار میں شراکت داری پر مجبور کیا۔

صدر موگابے نے الیکشن کمشین کو ان کی جماعت کے لیے دھاندلی کرنے کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہ ’’یہ سیاسی باتیں، وہ (مخالف امیدوار) فرار کا راستہ تلاش کرنا چاہتے ہیں۔‘‘

الیکشن کمشین کے پاس انتخابات کے حتمی نتائج کا اعلان کرنے کے لیے آئندہ پیر تک کا وقت ہے۔
XS
SM
MD
LG