رسائی کے لنکس

زمبابوے میں شہری حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ زمبابوے میں بڑھتا ہوا تشدد، دباؤ اور سیاسی گرفتاریاں زمبابوے میں شفاف انتخابات کی راہ میں حائل ہیں۔

زمبابوے میں انسانی حقوق کے گروپ اور سیاسی سرگرم کارکن زمبابوے میں سولہ مارچ کو ہونے والے آئینی ریفرنڈم کے بارے میں سوالات اٹھا رہے ہیں۔

زمبابوے کے عوام نے سولہ مارچ کو ریفرنڈم کے ذریعے ملک کے نئے آئین کے لیے ووٹ کے ذریعے منظوری دی تھی۔ اس ووٹنگ کے عمل کو زمبابوے اور زمبابوے سے باہر بھی سراہا گیا اور اسے شفاف قرار دیا گیا۔ نیا آئین، جو کہ جلد قانونی شکل اختیار کر لے گا، نئے عام انتخابات کے لیے راہ ہموار کرے گا جو کہ تین ماہ میں ہونا قرار پائے ہیں۔

ریفرنڈم کی کامیابی اور نئے پرامن انتخابات کے لیے یورپی یونین نے زمبابوے پر سے بہت سی پابندیاں اٹھالی ہیں۔ اب صرف زمبابوے کے صدر روبرٹ موگابے (جو طویل عرصے سے زمبابوے کے صدر ہیں) اور زمبابوے کی چند کمپنیوں پر پابندیاں عائد ہیں۔

لیکن زمبابوے میں شہری حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ زمبابوے میں بڑھتا ہوا تشدد، دباؤ اور سیاسی گرفتاریاں زمبابوے میں شفاف انتخابات کی راہ میں حائل ہیں۔

زمبابوے میں شہری حقوق کی ایک تنظیم کے ترجمان تھابانی نیونی نے جوہانسبرگ میں صحافیوں کو بتایا کہ زمبابوے میں انسانی حقوق کی صورتحال ابتر ہے۔ ان کے الفاظ، ’’میرے نزدیک زمبابوے کے زمینی حقائق مدِ نظر رکھتے ہوئے وہاں مستند اور شفاف انتخابات ہونا ایک مشکل امر ہے۔ جوں جوں الیکشن قریب آرہے ہیں ویسے ویسے شہری تنظیموں کو غیر متحرک کیا جا رہا ہے۔‘‘

2008ء کے آخری صدارتی انتخابات میں پُرتشدد واقعات میں دو سو افراد موت کے منہ میں چلے گئے تھے۔ ان میں سے اکثریت اپوزیشن تحریک سے تعلق رکھنے والوں کی تھی۔
XS
SM
MD
LG