رسائی کے لنکس

ممبئی فلمی صنعت سالانہ ہزاروں فلمیں پروڈیوس کرتی ہے، یہاں فلموں کے درمیان سارا سال سخت ترین مقابلہ رہتا ہے۔ ایسے میں، اگر کوئی پاکستانی فلم وہاں سے ایوارڈ لے اڑے، تو سمجھ لیجئے وہ فلم غیر معمولی صلاحیت رکھتی ہے

کراچی ... فلم ٹریڈ سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ اگر بھارتی سر زمین کو فلموں کی ’مہا لکشمی‘ مان لیا جائے تو کوئی حرج نہیں۔ اگر دولت کی دیوی ’لکشمی‘ ہے تو فلمیں ’مہا لکشمی‘ کیوں نہیں ہو سکتیں۔

ایسا اس لئے کہا جاتا ہے کہ ممبئی انڈسٹری سالانہ ہزاروں فلمیں پروڈیوس کرتی ہے۔ یہاں فلموں کے درمیان سارا سال سخت ترین مقابلہ رہتا ہے۔ ایسے میں، اگر کوئی پاکستانی فلم وہاں سے ایوارڈ لے اڑے، تو سمجھ لیجئے وہ فلم غیر معمولی صلاحیت رکھتی ہے۔

پاکستانی فلم ’زندہ بھاگ‘ کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔

اِس فلم نے بھارت میں منعقد ہونے والے ’جے پور انٹرنیشنل فلم فیسٹیول‘ میں متعدد فلموں کی موجودگی کے باوجود ’اسپیشل جیوری ایوارڈ‘ اپنے نام کرلیا ہے۔

فلم ’زندہ بھاگ‘ کے یونٹ کی جانب سے جاری کئے گئے ایک اعلامیے کے مطابق، فیسٹیول میں بالی ووڈ سمیت دنیا بھر کی اہم فلمی شخصیات نے شرکت کی۔ جیسے ہی انعام کا قرعہ پاکستان کے نام ہونے کا اعلان ہوا، ویسے ہی سینکڑوں لوگوں سے کچھاکچھ بھرا ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔

فلم ’زندہ بھاگ‘ کو پانچ روزہ فیسٹیول کی ’افتتاحی فلم‘ بنائے جانے کا اعزاز بھی حاصل ہوا ہے۔ فیسٹیول میں ترکی زبان میں بننے والی فلم ’دی بٹر فلائی ڈریم‘ کے علاوہ نامور فلم ساز امول پالیکر کو بھی ایوارڈ سے نوازا گیا۔
XS
SM
MD
LG