رسائی کے لنکس

پاکستانی فلم ’زندہ بھاگ‘ آسکر کی دوڑ سے باہر


سعودی عرب کی پہلی خاتون ڈائریکٹرکی فلم’واجدہ‘بھی دبئی اور کینز کے فلمی میلوں میں ایوارڈز حاصل کرنے کے باوجودنامزدگی سے آگے نہ بڑھ سکی۔ بلجیم،بوسنیا، کمبوڈیا،جرمن اور اٹلی بھی ناکام

’آسکر ایوارڈز‘ کے لئے پہلی مرتبہ نامزد ہونے والی پاکستانی فلم ’زندہ بھاگ‘ مقابلے کی دوڑ سے باہر ہوگئی ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق ’زندہ بھاگ‘ پاکستان کی ایسی پہلی تھی جسے ’بیسٹ فارن لینگویج فلم‘ کی کیٹیگری میں نامزدگی ملی تھی۔ تاہم، اسی کیٹیگری میں شامل ہونے والی دیگر ممالک کی نو فلموں نے ’زندہ بھاگ‘ کا راستہ روک لیا اور آگے نہیں جانے دیا۔

’بیسٹ فارن لینگوئج فلم‘ کو منتخب کرنے والے ماہرین کی ٹیم کا تعلق فلسطین، ڈنمارک اور ہانگ کانگ سے تھا۔ ’زندہ بھاگ‘50سالوں کے درمیان نامزدگی حاصل کرنے والی پہلی فلم تھی جس کی کہانی کامیڈی اورتھرل کے ساتھ ساتھ مشقت بھری زندگی سے فرار کے خواہش مند تین دوستوں کے گرد گھومتی ہے۔

پاکستان کے علاوہ سعودی عرب۔۔۔یہاں تک کہ ماضی میں آسکر ایوارڈ کے فاتح قرار دیئے جانے والے ایرانی ڈائریکٹر کی فلم بھی اس بار نامزدگی کی دوڑ سے باہر ہوگئی۔ اس سال پاکستان کی طرح ہی سعودی فلم ’واجدہ‘ کو بھی پہلی مرتبہ نامزدگی کاموقع ملا تھا۔

’واجدہ‘ کی ایک خاصیت یہ بھی تھی کہ اسے سعودی عرب کی پہلی خاتون فلم میکر نے ڈائریکٹ کیا تھا۔ پوری فلم خلیجی ممالک میں ہی شوٹ ہوئی تھی۔ یہی فلم گزشتہ سال دبئی اور کینز کے فلمی میلوں میں ایوارڈز حاصل کرچکی ہے۔

’بیسٹ فارن لینگویج فلم‘کے مقابلے میں 76فلمیں شامل تھیں لیکن ان میں سے صرف 9 فلموں کو شارٹ لسٹ کیا گیا، جبکہ پاکستان اور سعودی عرب کی مذکورہ دونوں ممالک کی فلموں سمیت بلجیم، بوسنیا، کمبوڈیا،جرمن اور اطالوی ڈائریکٹرز کی فلمیں ایوارڈ کے لئے خودکو مزید مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے نہیں لاسکیں۔

اگلے سال یعنی 2 مارچ کو 86 ویں آسکر ایوارڈز کی فاتح فلموں اور ان میں کام کرنے والے بہترین ایکٹر، ایکٹریسز اور دیگر عملے کے ناموں کا حتمی اعلان ہوگا۔
XS
SM
MD
LG