رسائی کے لنکس

ذوالفقار مرزا نے درخواست میں موٴقف بیان کیا تھا کہ انہیں جعلی پولیس مقابلے میں ماردیئے جانے کا خدشہ ہے اس لئے ان کی حفاظت کا بندوبست کیا جائے

سندھ کے سابق وزیر داخلہ، ڈاکٹر ذوالفقار مرزا گزشتہ دو دنوں سے خبروں میں نمایاں ہیں۔ حتیٰ کہ پیر کو سندھ کے کچھ علاقوں میں ان کی حمایت میں جزوی ہڑتال بھی کی گئی۔

انہوں نے اپنی گرفتاری سے بچنے کے لئے پیر کو سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور حفاظتی ضمانت کے لئے درخواست دائر کردی جسے عدالت نے 6 مئی تک کے لئے منظور کرلیا۔

یہ بات ٹیلی ویژن نیوز چینلز کے علاوہ متعدد اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں میں بتائی گئی ہے۔

ذوالفقار مرزا نے درخواست میں موٴقف بیان کیا تھا کہ انہیں جعلی پولیس مقابلے میں ماردیئے جانے کا خدشہ ہے اس لئے ان کی حفاظت کا بندوبست کیا جائے۔

اس سے ایک روز قبل یعنی اتوار کو ان کے خلاف بدین کے ایک تھانے میں ہنگامہ آرائی کرنے اور پولیس افسران سے بدسلوکی و بدکلامی کرنے پر ان کے خلاف مقدمہ درج کرکے ان کی گرفتاری کے لئے مختلف جگہوں پر چھاپے مارے جاتے رہے، جبکہ اس دوران شہر میں کشیدگی پھیل گئی۔ یہاں تک کہ علاقے کی کاروباری سرگرمیاں بھی معطل ہوگئیں۔

پاکستان کے نجی چینلز نے اس خبروں کو نمایاں کوریج دی جس کے مطابق ذوالفقار مرزا کے خلاف مقدمہ مبینہ طور پر اپنے ایک ساتھی ندیم مغل کی جیل سے جبری رہائی کے معاملے پر درج کیا گیا۔

ندیم مغل نے میڈیا سے گفتگو میں الزام لگایا تھا کہ چند سادہ لباس اہلکاروں نے انہیں زبردستی اور بلاقصور گرفتار کرنے کی کوشش کی۔ تاہم، ذوالفقار مرزا اور ان کے دیگر ساتھی تھانے پہنچ گئے جہاں پولیس کے مطابق انہوں نے اہلکاروں سے بدکلامی کی، میز پر رکھا شیشہ توڑ ڈالا اور پولیس افسر کا موبائل دیوار پر دے مارا۔

مقامی میڈیا نے اس ہنگامہ آرائی کو ٹی وی پر نشر کیا جبکہ اس دوران ذوالفقار مرزا کے حامیوں کی طرف سے سڑک پر دھرنا بھی دیا گیا جس سے خطاب میں ذوالفقار مرزا نے سندھ حکومت اور سابق صدر پر سنخت تنقید بھی کی۔

اس دوران کچھ لوگوں نے علاقے کی دکانیں بھی بند کرادی دیں جبکہ پیر کو ضلع بدین میں پہیہ جام ہڑتال کی بھی کال دی جس کے سبب مختلف شہروں میں جزوی ہڑتال ہوئی۔

ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کا میڈیا سے خطاب میں کہنا تھا کہ ’کرائے کے غنڈے‘ مجھے گرفتار نہیں کرسکتے۔ ایسا کیا گیا تو مزاحمت کی جائے گی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر ایماندار افسران نے انہیں فون بھی کیا تو بھی وہ خود گرفتاری پیش کردیں گے۔

گرفتاری سے بچنے کے لئے پیر کو انہوں نے سندھ ہائی کورٹ سے رابطہ کیا اور موٴقف اختیار کیا کہ انہیں جعلی پولیس مقابلے میں مار دیئے جانے کا خدشہ ہے۔ لہذا، ان کی حفاظتی ضمانت منظور کی جائے۔

عدالت نے ان کی یہ درخواست 6 مئی تک کے لئے منظور کرلی ہے۔

XS
SM
MD
LG