رسائی کے لنکس

اوریگن: حملہ آور کی نفرت پر مبنی تحریر برآمد


سرکاری ذرائع کے حوالے سے، ’این بی سی نیوز‘ اور ’سی بی ایس نیوز‘ نے بتایا ہے کہ حملہ آور کو گمان تھا کہ ’دنیا اُن کے خلاف ہے‘۔۔۔ اُنھوں نے لکھا ہے کہ اُنھیں ’بُرا سمجھا جا رہا ہے‘، اُن کی کوئی ’گرل فرینڈ نہیں‘، اور ’یہ کیا زندگی ہے؟‘

اوریگن کے حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مسلح شخص جس نے کمیونٹی کالج میں گولیاں چلائیں تھیں، جائے واردات سےاُن کا تحریر کردہ ایک نوٹ برآمد ہوا ہے، جس میں نفرت انگیز جملے درج ہیں۔

سرکاری ذرائع کے حوالے سے، ’این بی سی نیوز‘ اور ’سی بی ایس نیوز‘ نے بتایا ہے کہ جمعے کی شام گولیاں چلانے والے کو گمان تھا کہ ’دنیا اُن کے خلاف ہے‘۔

اُنھوں نے لکھا ہے کہ اُنھیں ’بُرا سمجھا جا رہا ہے‘، اُن کی کوئی ’گرل فرینڈ‘ نہیں، اور ’یہ کیا زندگی ہے؟‘۔

چھبیس برس کے کرسٹوفر ہارپر مرسر نو طالب علموں کو گولی مار کر ہلاک اور مزید نو کو زخمی کرچکا تھا، جب ایمپکوا کمیونٹی کالج میں پولیس نے جوابی فائر کرتے ہوئے، اُنھیں ہلاک کیا۔

ٹائپ شدہ پیغام میں، جو کئی صفحات پر مشتمل ہے، حملہ آور نے مزید تحریر کیا کہ: ’جہنم رسید ہوچکے ہو، اب شیطان کو گلے لگاؤ‘۔

وفاقی تفتیش کاروں نے مسلح شخص کی ملکیت والے 13 ہتھیار برآمد کیے ہیں، جن میں چھ بندوقیں اسکول سے ملیں ہیں، جب کہ سات اُن کی رہائش گاہ سے برآمد کی گئیں۔
الکوہل، تمباکو اور اسلحے سے متعلق وفاقی ادارے کے ایک اہل کار، سیلینز نے جمعے کے روز بتایا کہ ’ساری بندوقیں قانونی طور پر اور اسلحہ فروخت کرنے والے ایک ڈیلر سے خریدی گئی تھیں۔

اُنھوں نے ایک اخباری کانفرنس کو بتایا کہ کچھ ہتھیار گولیاں چلانے والے نے خریدے تھے، جب کہ باقیوں کا معاملہ مختلف ہے۔

اوریگن کے شہر، روزبرگ سے برآمد ہونے والے ہتھیاروں میں پانچ پستول اور ایک رائفل تھی۔ پولیس اس بات کا تعین کررہی ہے آیا مرسر نے جمعرات کو اسکول میں گولیاں کیوں چلائیں۔ اس عمل کے محرک کا پتا چلانے کے لیے، اپنے طور پر پولیس بھی چھان بین کر رہی ہے۔

ایمپکوا کمیونٹی کالج میں تقریباً 3000 شاگرد ہیں، جن میں سے 58 فی صد لڑکیاں ہیں۔ طالب علموں میں زیادہ تر 30 برس سے زیادہ عمر کے ہیں، جو اس اسکول میں جُز وقتی کلاسوں میں داخل ہیں، جہاں وہ اپنے ’کیریئر‘ میں تبدیلی لانے کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG