هفته, اپریل 30, 2016 مقامی وقت: 04:31

    خبریں / صحت-سائنس

    چھاتی کے سرطان سے بچاؤ کے لیے بھرپور آگاہی مہم پر زور

    فہمیدہ مرزا کا کہنا تھا کہ اکثر خواتین اس مرض سے متعلق منفی سماجی رویوں کی وجہ سے بھی اس کی تشخیص و علاج کے لیے بات نہیں کرتیں جسے ان کے بقول تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

    پاکستان میں صحت، تعلیم اور انسانی حقوق کے ماہرین نے ایک بار پھر خواتین میں چھاتی کے سرطان سے بچاؤ اور اس کے علاج سے متعلق مؤثر اور بھرپور آگاہی مہم چلانے پر زور دیا ہے تاکہ اس مرض سے متاثر ہونے والوں کی شرح کو کم کیا جا سکے۔

    دنیا بھر میں اکتوبر کا مہینہ خواتین میں چھاتی کے سرطان کے بارے میں آگاہی وشعور اجاگر کرنے کے لیے پنکتوبر کے نام سے منایا جاتا ہے۔

    اس مہینے کے اختتام پر بدھ کو اسلام آباد میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم، سائنس و ثقافت ’یونیسکو‘ نے دیگر متعلقہ تنظیموں کے ساتھ مل کر ایک تقریب کا اہتمام کیا جس کے شرکا کا کہنا تھا کہ خواتین خصوصاً نوجوان لڑکیوں میں چھاتی کے سرطان کی بڑھتی ہوئی شرح کو اس مرض کے بارے میں آگاہی پیدا کر کے قابل ذکر حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔

    اس مرض سے بچاؤ کے لیے شعور بیدار کرنے والی پنک ربن سوسائٹی نامی غیر سرکاری تنظیم کے مطابق پاکستان میں نو میں سے ایک خاتون کو چھاتی کے سرطان کا خطرہ لاحق ہے جو کہ ایشیا میں اس مرض کی سب سے زیادہ شرح ہے۔

    اس تنظیم کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ہر سال لگ بھگ چالیس ہزار خواتین اس مرض میں مبتلا ہو کر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔

    چھاتی کے سرطان کی علامات میں چھاتی یا اس کے علاوہ بغل کی طرف بھی کوئی گلٹی نمودار ہو سکتی ہے اور جلد پر خراشیں بھی اس کی ایک علامت ہو سکتی ہے۔ تاہم طبی ماہرین کے مطابق ضروری نہیں ایسی تمام گلٹیاں چھاتی کے سرطان میں تبدیل ہوں لیکن ان کے نمودار ہوتے ہی معالج سے مشورہ ضرور کرنا چاہیے۔

    ڈاکٹر ثانیہ نشترڈاکٹر ثانیہ نشتر
    x
    ڈاکٹر ثانیہ نشتر
    ڈاکٹر ثانیہ نشتر

    تقریب میں شریک سابق نگراں وفاقی وزیر اور طبی ماہر ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ احتیاطی تدابیر کے علاوہ اس مرض کی بروقت تشخیص سے بھی بہت سی پیچیدگیوں سے بچا جاسکتا ہے۔

    ’’خواتین اپنا وزن کم رکھیں، انھیں پتا ہو کہ ان کے لیے کیا خوراک ہونی چاہیے اگر ان کے خاندان کی دو خواتین کو بھی چھاتی کا سرطان ہوچکا ہو تو پھر ان کے لیے بھی خطرہ ہوسکتا ہے۔ انھیں پتا ہونا چاہیے کہ خود سے کیسے اسے مانیٹر کرنا ہے۔ اگر یہ سب معلومات ہوں تو رسک بہت حد تک کم ہوجاتا ہے۔‘‘

    تقریب سے خطاب کرنے والوں میں قومی اسمبلی کی رکن اور سابق اسپیکر فہمیدہ مرزا بھی شامل تھیں جو خود بھی اس مرض سے شفایاب ہوچکی ہیں۔

    انھوں نے خواتین کی بنیادی معلومات اور آگاہی سے دوری کو اس مرض میں اضافے کی ایک وجہ قرار دیا۔

    فہمیدہ مرزا کا کہنا تھا کہ اکثر خواتین اس مرض سے متعلق منفی سماجی رویوں کی وجہ سے بھی اس کی تشخیص و علاج کے لیے بات نہیں کرتیں جسے ان کے بقول تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

    ناصر محمود

    Nasir Mehmood is a broadcast TV, radio and web journalist reporting from VOA Islamabad
    ناصر محمود
    یہ فورم بند کیا جاچکا ہے
    تبصرے
         
    اس فورم پر اب تک کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔ آپ ہی آغاز کیجئے
    آپ کے کمپیوٹر پر جاوا اسکرپٹ غیر موثر ہے یا آپ ایڈوب فلیش پلیئر کا پرانا ورژن استعمال کر ر ہے ہیں۔ < >فلیش پلیئر کا نیا ورژن حاصل کیجئے<>
    انڈی پنڈنس ایوینو i
    X
    29.04.2016 17:30
    انڈی پنڈنس ایوینو
    وڈیو

    وڈیو انڈی پنڈنس ایوینو

    انڈی پنڈنس ایوینو
    وڈیو

    وڈیو کہانی پاکستانی

    VOA Urdu's new tv magazine show
    وڈیو

    وڈیو کہانی پاکستانی: Stories That Make a Difference

    Ayesha shares stories from the US and Pakistan of people making a difference
    وڈیو

    وڈیو Cafe DC: Ambassador Zalmay Khalilzad

    Amb. Khalilzad discusses US-Pakistan-Afghanistan relations and his new book The Envoy
    وڈیو

    وڈیو Cafe DC: Salman Sufi, Special Monitoring Unit, Punjab Government

    Chief Minister Punjab's Special Monitoring Unit Salman Sufi talks to Faiz Rehman
    وڈیو

    وڈیو کہانی پاکستانی: Protecting Women Against Violence

    April is Sexual Assault Awareness Month. How can Pakistan and US protect women against violence
    وڈیو

    وڈیو زندگی 360: ایک دن رضاکاروں کے ساتھ

    سارہ زمان کے ساتھ چلیں قبرستان میں درخت لگانے اور ملیں ان رضاکاروں سے جو میلوں سے لے کر آفت زدہ لوگوں کی امداد تک کو ممکن بناتے ہیں۔
    وڈیو

    وڈیو انڈی پنڈنس ایوینو - پنجاب آپریشن کہاں تک جائے گا؟

    اگر پنجاب پولیس ڈاکوؤں کے خلاف کارروائی میں ناکام ہے تو دہشت گردی پر قابو پانے میں کیسے کامیاب ہوگی؟ پنجاب پولیس کی ترجمان نبیلہ غضنفر، سینئیر صحافی جمشید رضوانی، سینیٹر عبد القیوم اور تجزیہ کار معید یوسف اور مائیکل کوگل مین کی گفتگو دیکھئے انڈی پنڈنس ایونیو میں تابندہ نعیم کے ساتھ
    وڈیو

    وڈیو کہانی پاکستانی:We for Art & Art for Us

    Exploring two of DC's most popular art galleries
    مزید۔۔۔
    Kahani Pakistani.


    Download mobile app for your iPhone or iPad.

     

    خالد حمید کی یادیں - خالد حمید کی تلاش
    Download mobile app for your iPhone or iPad.
    Download mobile app for your iPhone or iPad.
    Download mobile app for your iPhone or iPad.
    Kahani Pakistani.