رسائی کے لنکس

پاکستان: مزید چار مجرم تختہ دار پر لٹکا دیے گئے


فائل فوٹو
فائل فوٹو

بلوچستان کی مچھ جیل میں قید سزائے موت کے مجرم صولت مرزا کی پھانسی پر عملدرآمد 30 روز کے لیے موخر کر دیا گیا ہے۔ مجرم کو یکم اپریل کو پھانسی دی جانی تھی۔

پاکستان میں مختلف جرائم کی پاداش میں سزائے موت پانے والے مجرموں کی پھانسیوں پر عملدرآمد جاری ہے اور منگل کو مختلف جیلوں میں قید مزید چار مجرموں کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔

محمد امین کو قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی جس پر منگل کی صبح راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں عملدرآمد ہوا۔

اٹک کی جیل میں اکرام الحق کو تختہ دار پر لٹکایا گیا جسے 2003ء میں ایک تین سالہ بچی کو تاوان کے لیے اغوا کے بعد قتل کرنے کے جرم میں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔

سینٹرل جیل میانوالی میں حُبدار حسین شاہ کو تختہ دار پر لٹکایا گیا۔ اس نے 15 سال قبل ذاتی دشمنی پر دو بھائیوں کو قتل کیا تھا۔

سرگودھا کی جیل میں محمد ریاض نامی مجرم کو پھانسی دی گئی۔ اس پر 2000ء میں ڈکیتی اور قتل کا جرم ثابت ہوا تھا۔

شائع شدہ اطلاعات کے مطابق 1910ء میں بننے والی سرگودھا جیل میں 105 سال میں پہلی بار کسی کو پھانسی دی گئی ہے۔

پاکستان میں 2008ء سے سزائے موت پر عملدرآمد پر پابندی چلی آرہی تھی جسے گزشتہ دسمبر میں وزیراعظم نواز شریف نے ختم کردیا تھا۔

اولاً صرف دہشت گردی کے جرم میں سزائے موت پانے والوں کو پھانسیاں دیے جانے کا فیصلہ کیا گیا لیکن رواں ماہ ہی کسی بھی جرم میں موت کی سزا پانے والے مجرم کو تختہ دار پر لٹکانے کا فیصلہ کیا گیا۔

گزشتہ دسمبر سے اب تک 60 سے زائد مجرموں کو ملک کی مختلف جیلوں میں تختہ دار پر لٹکایا جا چکا ہے جن میں کالعدم شدت پسند تنظیموں سے تعلق رکھنے والے دہشت گردی میں ملوث مجرمان بھی شامل ہیں۔

یورپی یونین اور اقوام متحدہ سمیت انسانی حقوق کی مقامی و بین الاقوامی تنظیمیں سزائے موت پر عملدرآمد کا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کر چکی ہیں۔ لیکن حکومتی عہدیداروں کے بقول ملکی قوانین پر عملدرآمد موجودہ حالات میں ناگزیر ہے۔

دریں اثناء بلوچستان کی مچھ جیل میں قید سزائے موت کے مجرم صولت مرزا کی پھانسی پر عملدرآمد 30 روز کے لیے موخر کر دیا گیا ہے۔ مجرم کو یکم اپریل کو پھانسی دی جانی تھی۔

گزشتہ ہفتے ہی وزارت داخلہ کی درخواست پر وزیراعظم نوازشریف نے صدر ممنون حسین سے اس پھانسی کو موخر کرنے کی سفارش کی تھی۔

صولت مرزا پاکستان کی ایک بڑی سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کا سابق کارکن ہے جس نے کراچی الیکٹرک سپلائی کے سربراہ شاہد حامد کو ان کے ڈرائیور اور محفافظ سمیت 1997ء میں قتل کیا اور جرم ثابت ہونے پر اسے 1999ء میں سزائے موت سنائی گئی۔

تمام اپیلیں مسترد ہونے اور ملک میں پھانسیوں پر عائد پابندی ختم ہونے کے بعد صولت مرزا کو 19 مارچ کو پھانسی دی جانی تھی لیکن اس سے چند گھنٹے قبل ہی اس کا ایک وڈیو انٹرویو منظر عام پر آگیا جس میں اس نے متحدہ قومی موومنٹ کے رہنماؤں پر سنگین جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے۔

ایم کیو ایم ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہہ چکی ہے کہ صولت مرزا کو پارٹی سے نکال دیا گیا تھا۔

وزارت داخلہ نے وزیراعظم کو بھیجی گئی درخواست میں کہا تھا کہ صولت مرزا کے اس وڈیو بیان کی تحقیقات کی جانی چاہیے۔

بعض سیاسی و قانونی حلقوں کی طرف سے پھانسی سے چند گھنٹے قبل دیے گئے بیان کے بعد سزائے موت کو ملتوی کرنے پر اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں جب کہ اس بات پر بھی زور دیا جا رہا ہے کہ اس کی تفتیش کی جائے کہ جیل میں یہ وڈیو کیسے اور کس نے ریکارڈ کی۔ تاحال یہ معاملہ حل طلب ہے۔

XS
SM
MD
LG