پير, مئی 20, 2013 مقامی وقت: 04:46

خبریں

غربت کے خلاف پاکستان کا ’’خاموش انقلاب‘‘

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چیئر پرسن فرزانہ راجہ نے کہا کہ غربت کا درست اندازہ لگانے کے لیےعالمی بینک کے تعاون سے ملک میں غربت شماری کا سروے تقریباً مکمل ہوچکا ہے۔ فرزانہ راجہ کے بقول اب بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے پاس 18 کروڑ لوگوں کی تفصیلات موجود ہیں اس لیے مستقبل میں کسی بھی ناگہانی آفت کی صورت میں حکومت فوری طور پر یہ اندازہ لگا سکے گی کہ متاثرین کو کس سطح اور نوعیت کی امداد درکار ہے۔

تحریر کا سائز - +

پاکستان کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے ساتھ ساتھ غربت کے خلاف جنگ میں بھی اس نے گزشتہ چار سال کے دوران نمایاں پیش رفت کی ہے۔

حکمران پیپلز پارٹی نے 2008 کے اواخر میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے نام سےایک طویل المدت منصوبے کا آغاز کیا تھا اور ابتدائی مرحلے میں اس کا مقصد عالمی کساد بازاری اور اندرون ملک مہنگائی میں اضافے کے تناظر میں عام آدمی کی قوت خرید میں مالی اعانت تھا۔

اس پروگرام کی چیئرپرسن فرزانہ راجہ کہتی ہیں کہ اس وقت ملک بھر میں 60 لاکھ غریب خاندان یعنی ساڑھے تین سے چار کروڑ افراد اس منصوبے سے مستفید ہو رہے ہیں اور اس کے تحت خاتون خانہ کو باقاعدگی سے ماہانہ ایک ہزار روپے نقد ادا کیے جاتے ہیں۔

وائس آف امریکہ کے ساتھ انٹرویو میں انھوں نے بتایا کہ اب تک مجموعی طور پر 103 ارب روپے لوگوں میں تقسیم کیے جا چکے ہیں جن میں نقد رقوم کے علاوہ غربت کے مکمل خاتمے  کی کوششوں کے سلسلے میں ان غریب خاندانوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے منصوبوں کی لاگت شامل ہے۔

’’اس منصوبے کی روح یہ ہے کہ وصول کنندہ کے لیے خاتون خانہ ہونا شرط ہے۔ اس پالیسی کے تحت خواتین کو بااختیار بنانا ہے تاکہ گھریلو معاملات میں اُن کی رائے کو اہمیت دی جائے اور ہمیں اس مقصد میں بہت حد تک کامیابی بھی حاصل ہوئی ہے۔‘‘

فرزانہ راجہ کہتی ہیں کہ بی آئی ایس پی کی خوبی یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اس منصوبے کو آگے بڑھایا جا رہا ہے جس کی وجہ سے ان کے بقول انتظامی اخراجات بمشکل پانچ فیصد ہوتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ان غریب خاندانوں میں خاتون خانہ کو تین لاکھ تک کی مالی امداد فراہم کی جاتی ہے تاکہ چھوٹے پیمانے پر کوئی کاروبار شروع کرنے میں اسے مدد ملے لیکن کاروبار کی مالک خاتون خانہ ہی ہوگی۔    

فرزانہ راجہ کہتی ہیں کہ ان خاندانوں کے نوجوانوں کو، جن کی عمریں 18 سے 35 سال کے درمیان ہیں، بھی اس منصوبے میں شامل کررہے ہیں اور انھیں ووکیشنل ٹریننگ دے کر اس قابل بنانا ہے کہ وہ اپنے لیے روزگار تلاش کرسکیں۔

ان پر اس لیے توجہ دے رہے ہیں کیونکہ روزگار سے محروم ان ناراض نوجوانوں کو انتہا پسند تنظیمیں پیسے کا لالچ دے کر باآسانی گمراہ کرسکتی ہیں۔

’’میں سمجتھی ہیں کہ پاکستان دو متوازی محاذوں پر جنگ کررہا ہے۔ ایک انسداد دہشت گردی کی جنگ جبکہ دوسری غربت کے خلاف جنگ ہے اور یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ چل رہی ہیں کیونکہ یہ ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔ میں سمجھتی ہوں کہ غربت کے خاتمے کے خلاف بی آئی ایس پی ہمارا خاموش انقلاب ہے جس پہ ہم خاموشی سے کام کررہے ہیں۔‘‘

انھوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی شفاف انداز میں کام کر رہا ہے اور اس کا ثبوت اس منصوبے کے لیے غیر ملکی امداد اور بین الاقوامی اداروں کی طرف سے مالی معاونت ہے جو بلا روکاٹ جاری ہے۔

فرزانہ راجہ نے بتایا کہ امریکہ اب تک اس منصوبے کے لیے ساڑھے آٹھ کروڑ ڈالر دے چکا ہے جبکہ مزید ساڑھے سات کروڑ  ڈالر جلد فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ اُنھوں نے اُمید ظاہر کی کہ امریکہ کی طرف سے غربت کے خلاف اس منصوبے کے لیے مالی معاونت سیاسی تعلقات میں کشیدگی سے متاثر نہیں ہوگی۔

غربت اور دہشت گردی ایک دوسرے سے منسلک ہیں
غربت اور دہشت گردی ایک دوسرے سے منسلک ہیں

’’انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر دی جانے والی امداد کو میں سمجھتی ہوں کسی سطح پر نہیں روکنا چاہیے۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے غربت کا خاتمہ ضروری ہے۔ اور دہشت گردی تو ہم سب کا مشترکہ مسئلہ ہے اس لیے ہمیں اس کے اسباب پر توجہ دینی چاہیے کیونکہ طاقت کے ذریعے یا جنگ کے ذریعے اس انتہا پسندی کا خاتمہ ممکن نہیں۔‘‘

انھوں نے کہا کہ غربت کا درست اندازہ لگانے کے لیےعالمی بینک کے تعاون سے ملک میں غربت شماری کا سروے تقریباً مکمل ہوچکا ہے۔ فرزانہ راجہ کے بقول اب بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے پاس 18 کروڑ لوگوں کی تفصیلات موجود ہیں اس لیے مستقبل میں کسی بھی ناگہانی آفت کی صورت میں حکومت فوری طور پر یہ اندازہ لگا سکے گی کہ متاثرین کو کس سطح اور نوعیت کی امداد درکار ہے۔

فرزانہ راجہ کا کہنا ہے کہ سروے میں ملک کے ہر حصے کا احاطہ کیا گیا ہے جس میں وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقے بھی شامل ہیں البتہ کچھ حصوں بشمول شمالی وزیرستان کے بعض علاقوں میں امن وامان کی خراب صورت حال کی وجہ سے سروے ٹیمیں ابھی وہاں نہیں جاسکی ہیں۔ 

اُن کے بقول بی آئی ایس پی سے اس وقت لگ بھگ چار کروڑ لوگ مستفید ہو رہے ہیں اور انھیں یقین ہے کہ ماضی کی طرح مستقبل میں کوئی بھی سیاسی حکومت قلم کی ایک جنبش سے اس منصوبے کو ختم کرکے اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی ناراضگی مول لینے کی متحمل نہیں ہوسکتی۔

یہ فورم بند کیا جاچکا ہے
تبصرے کی چھانٹی
تبصرے
     
از طرف: RAZZAQUE ALI
29.04.2012 21:07
Me ek Gharib Family C Talik Rakhny Wala Parha Likah Farid ho, Mujhy Waseela-e-Haq Dia Jay Taky me Karobar Kar Sakoo,our apny Waldeen ka Peet Pal Sakoo. Our Jin ko Zarorat Nhi Thi Un Ko Karoobar Kely Paisy Dy Jarhy He Hum Parhy Likhy Or Gharib Family Walo Ko Ku Nhe. Nehin App he Insaf kejey, Please Meri Is Iltja Pr Ghor Farmaien.
Name: Razzaque Ali
Ÿ£¤ “ ¦ ¢‡¦ Ÿ‰Ÿ‹ ˜ŸŽ


از طرف: Malik Bilal Ahmad Sipra
22.04.2012 21:17
kia ham garebb nahe hain hamara haq nahe hay is parogaram me aakhir ku? ye parogaram sirf aur sirf ameer logoon k liy hay hamary ilaqy me to aksar ameer logoo ko BISP ka haq mil raha hay gareeb log to dar badar ki thokareen kha rahy hain kia yehe insaf hay ap ka akhir isa ku???????????
MALIk BILAL AHMAD SIPRA
03459859820 03339971720


از طرف: nooralam
18.04.2012 04:01
آپ اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ آپ کے تبصرے کا جائزہ لیا جائے گا۔ اور ممکن ہے اسے شائع نہ کیا جائے۔ وی او اے آپ کے تبصرے کو دنیا بھر میں نشر کرنے کا حق رکھتا ہے۔ استعمال اور پرائیویسی نوٹس


از طرف: Faisal Raza
14.04.2012 04:59
Dear Farzana Raja, if you could have started this vocational education programme in very start of your government, I guess thousands of youth would have been taken advantage of getting education and would have been earning by their own, with help of your BIS programme, any way it is not too late yet, God bless our poor nation


از طرف: S.T. HAIDER
14.04.2012 03:56
ہر ملک و قوم اپنے لوگوں کی ترقی و بہبود کا سوچتی ہے، ہم نے امداد دے دے کر،
اور لے لے کر ، قوم کی عزت ِ نفس کو ختم کردیا ہے، ہر شخص اب یہی چاہتا کہ اس کے دروازے پر ہر چیز امداد کے طور پر مل جائے۔ عوام کو ہنر مند بنا کراس لعنت سے نجات مل سکتی ہے۔ "کام کے بدلے دام"، امداد بند، اسی لیے تو لوگ امدادی سامان کے ٹرک لوٹ لیتے ہیں

ثنا - ایک پاکستانی

Loading
۱۲:۰۰:۰۰ / -:--:--

اردو TV پر

آپ کے کمپیوٹر پر جاوا اسکرپٹ غیر موثر ہے یا آپ ایڈوب فلیش پلیئر کا پرانا ورژن استعمال کر ر ہے ہیں۔ < >فلیش پلیئر کا نیا ورژن حاصل کیجئے<>
آپ کے کمپیوٹر پر جاوا اسکرپٹ غیر موثر ہے یا آپ ایڈوب فلیش پلیئر کا پرانا ورژن استعمال کر ر ہے ہیں۔ < >فلیش پلیئر کا نیا ورژن حاصل کیجئے<>
وڈیو

وڈیو ایکسس پوائنٹ Challenges for Pakistan's Government

?What challenges does Pakistan's government face
مزید۔۔۔