رسائی کے لنکس

کشمیر: تجارت کی آڑ میں منشیات اسمگل کرنے والا مبینہ تاجر گرفتار


فائل فوٹو
فائل فوٹو

دوطرفہ تجارت کے منسلک ایک تاجر اعجاز میر نے وائس آف امریکہ کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ بھارتی کشمیر میں گرفتار ہونے والے ٹرک ڈرائیور کی نشاندہی پر مشتاق احمد کو پاکستانی کشمیر میں گرفتار کیا گیا۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں حکام نے ایک تاجر کو گرفتار کیا ہے جس پر الزام ہے کہ وہ کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے آر پار تجارت کی آڑ میں منشیات اسمگل کرنے میں ملوث ہے۔

رواں ماہ کے اوائل میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں پاکستانی علاقے سے آنے والے تجارتی ٹرکوں میں سے ایک میں سے ہیروئن برآمد ہونے پر عہدیداروں نے ڈرائیور کو گرفتار کر کے اس پر مقدمہ درج کر لیا تھا اور اس وجہ سے لائن آف کنٹرول کے آر پار تجارت اور بس سروس معطل کر دی گئی تھی۔

پاکستانی کشمیر میں سفر اور تجارت کے ادارے ٹریڈ اینڈ ٹریول اتھارٹی کے مطابق مشتاق احمد میر نامی تاجر کو ہیروئن بھارتی کشمیر اسمگل کرنے کے الزام میں کیا گیا اور اب سرحدی قصبے چناری میں پولیس اُن سے تفتیش کر رہی ہے۔

دوطرفہ تجارت سے منسلک ایک تاجر اعجاز میر نے وائس آف امریکہ کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ بھارتی کشمیر میں گرفتار ہونے والے ٹرک ڈرائیور کی نشاندہی پر مشتاق احمد کو گرفتار کیا گیا۔

"اس کے علاوہ ٹرکوں کا پرمٹ بنانے والے ایک کلرک کو بھی پولیس نے گرفتار کیا ہے اور ان ٹرکوں کی اسکینگ کے انچارج اور ایک سکیورٹی گارڈ کو بھی حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔"

پاکستانی کشمیر اور بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے مابین ٹرکوں کے ذریعے ہونے والی تجارتی سروس میں اس سے پہلے بھی منشیات کی اسمگلنگ کے واقعات رونما ہو چکے جس سے یہ تجارتی سروس اور دو طرفہ تعلقات بھی خاصے متاثر ہوئے ہیں۔

گزشتہ سال کے اوائل میں بھی پاکستانی کشمیر سے سامان تجارت لے جانے والے ایک ٹرک کو بھارتی حکام نے مبینہ طور پر منشیات اسمگل کرنے کرنے پر گرفتار کیا تھا۔ اس واقعے کے بعد تقریباً ایک ماہ تک دونوں جانب سے تجارتی سروس معطل رہی تھی۔

یہ پہلا موقع ہے کہ اس سروس کے ذریعے منشیات کی اسمگلنگ کے الزام میں پاکستانی کشمیر میں کسی کو گرفتار کر کے تفتیش کی جا رہی ہے۔

کشمیر کا علاقہ پاکستان اور بھارت کے درمیان شروع ہی سے متنازع چلا آرہا ہے اور ایک عارضی حدبندی یعنی لائن آف کنٹرول کے ذریعے اسے تقسیم کیا گیا ہے۔

منقسم حصوں کے مابین تجارت کا آغاز اکتوبر 2008ء میں ہوا تھا اور اس سروس کے تحت ہفتے میں چار روز تقریباً 21 اشیاء کی تجارتی نقل و حمل کی اجازت ہے۔

XS
SM
MD
LG