هفته, اپریل 25, 2015 مقامی وقت: 11:30

  • پاکستانی فلموں کے کچھ فوٹو سیٹس۔ ان فلموں میں ”کالا پانی، مولاجٹ، انتظار، ملکہ“ اور دیگر شامل ہیں ۔
  •  دیواروں پر آویزاں مختلف فلموں کے پوسٹرز۔ فلم ’نائلہ“کا پوسٹر بھی شامل ہے جو آج تک کامیاب فلم شمار ہوتی ہے۔
  • کچھ اور فلموں کے پوسٹر زبھی اس تصویر میں نمایاں ہیں

     
  • فلم” لو ان دی جنگل “کا پوسٹر ۔ یہ فلم 1970ء میں ریلیز ہوئی تھی۔

     
  • نمائش کی شان بڑھاتے ہوئے کچھ اور فلمی پوسٹرز
     
  • فلم ”مجرم کون“ اور وحیدمراد کی فلم ”پردیسی“کے پوسٹرز

     
  • تاریخی فلم حیدرعلی کا پوسٹر جو 1978ء میں ریلیز ہوئی تھی
  • سن 1978 میں ریلیز ہونے والی فلم مولا جٹ اور پنجابی فلم بازی جت لئی کے پوسٹرز
  • یہ ہے فلم راوی پار کا پوسٹر جس کی ہیروئن پنجاب کے کلچر کو نمایاں کرتی نظر آرہی ہے
  • دو دیواروں پر لگے متعدد پوسٹروں کا ایک دلکش منظر

     
  • پاکستان کی ایک اور قابل ذکر فلم ارمان ، امن، بولی اور جولی ، اور سوسائٹی گرل کے پوسٹرز
  • فلم تہذیب کا پوسٹر جس کی ہیروئن رانی تھیں۔ فلم خاصی کامیاب رہی تھی
  • کل کے منڈے ، مسافر، اور دہی رانی ۔ پہلی فلم کے ہیرو کمال تھے جبکہ دہی رانی نے کامیابی کے جھنڈے گاڑے تھے

     
  • فلم حویلی کا پوسٹر جس میں ہیروئن شمیم آرا نمایاں ہیں جو پچھلے کئی سال سے کوما میں ہیں
  • سائنس فکشن فلموں’ سرکٹا انسان‘ اور’ شانی‘ کے پوسٹرز جبکہ ․’جوکر‘ بھی نمایاں ہے

     
  • ڈراونی فلم زندہ لاش کا پوسٹر جو صرف بالغوں کے لئے بنائی گئی تھی

گڈو، پاکستانی فلموں کا آخری پرستار

24.04.2015 کو شائع ہوئی

فرانسیسی ثقافتی مرکز کراچی ان دنوں پاکستانی فلم انڈسٹری کے سنہری ماضی کو منفرد انداز میں خراج تحسین پیش کر رہا ہے۔ زاہد گڈو خان انڈسٹری سے جڑی انمول یادوں کے مالک ہیں، ثقافتی مرکز اس خزانے کو عوام کے سامنے لاکر فلموں کے سنہرے ماضی کی تاریخ کو دہرانے کا نادر موقع فراہم کررہا ہے

پاکستان فلم انڈسٹری کا سنہرا ماضی یاد رکھنے والے اب کم رہ گئے ہیں۔ اور ’زاہد گڈو خان‘ انہی میں سے ہیں۔ ان کا براہ راست پاکستان فلم انڈسٹری سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا لیکن پاکستانی فلموں سے وہ جنون کی حد سے بھی کہیں زیادہ آگے نکل کر محبت کرتے ہیں۔فلموں سے دیوانہ وار محبت کا ایک جیتا جاگتا ثبوت یہ بھی ہے کہ ایسے دور میں جبکہ انڈسٹری سے متعلق زیادہ تر مواد ضائع ہوچکا ہے، اس سے جڑی تقریباً ہرچیز وقت کی دھول میں چھپ گئی ہے، زاہد گڈو خان پاکستانی سینما کی تاریخ کو سینے سے لگائے بیٹھے ہیں۔ ان کے پاس 15 ہزار سے زیادہ فلمی پوسٹرز، فوٹو سیٹس، کتابچے، میگزین، کتابیں، گانوں کے ریکارڈز، آڈیو اور ویڈیو کیسٹس اور ایل پیز موجود ہیں۔

۔۔۔ اس خزانے کی کچھ جھلکیاں دیکھئے ان تصاویر میں:


تبصرے
     
اس فورم پر اب تک کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔ آپ ہی آغاز کیجئے