هفته, فروری 28, 2015 مقامی وقت: 20:50

  • لڑائی کے دوران شہری علاقوں میں مارٹر گولے اور راکٹ گرنے کے واقعات بھی پیش آتے رہے ہیں۔
  • یوکرین کے صدر پیٹرو پوروشنکو نے کہا ہے کہ ان کی فوج مشرقی یوکرین میں اگلے مورچوں پر بھارتی اسلحہ واپس لے جانے کے لیے تیار ہے۔
  • یوکرین کی حکومت اور مشرقی یوکرین پر قابض روس نواز علیحدگی پسندوں نے اپنے قیدیوں کا تبادلہ کیا تھا۔
  • اس مہینے کے وسط میں یوکرین، روس، فرانس اور جرمنی کے رہنماؤں نے ایک جنگ بندی معاہدے پر اتفاق کیا تھا۔
  • اقوام متحدہ کے مطابق یوکرین میں جاری جنگ میں اپریل سے اب تک لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔
  • گزشتہ سال اپریل سے مشرقی خطے میں ہونے والی لڑائی میں لگ بھگ پانچ ہزار چار سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
  • علیحدگی پسندوں کے ساتھ کئی روز تک جاری رہنے والی لڑائی کے بعد رواں ماہ باغیوں نے  دیبالتسیو قصبے پر  قبضہ کر لیا تھا۔

بھاری اسلحہ دوبارہ محاذ پر بھیجا جا سکتا ہے: یوکرین

28.02.2015 کو شائع ہوئی

یوکرین کے صدر پیٹرو پوروشنکو نے کہا ہے کہ ان کی فوج مشرقی یوکرین میں اگلے مورچوں پر بھارتی اسلحہ واپس لے جانے کے لیے تیار ہے کیونکہ ان کے بقول روس نواز باغیوں کی طرف سے رواں ماہ ہونے والے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں اب بھی جاری ہیں۔