رسائی کے لنکس

logo-print

لیبیا: عوام نے ہتھیار اور گولہ بارود واپس کرنا شروع کردیا


اس مہم کا مقصد وہ اسلحہ اور گولہ بارو اکھٹا کرنا ہے جو گذشتہ سال انقلابی تحریک کے خاتمہ کے بعد لوگوں کے پاس بچ گیاتھا۔

لیبیا کے دارالحکومت طرابلس اور مشرقی شہر بن غازی میں سینکڑوں باشندے میں خصوصی طورپر قائم گئے مراکز میں اپنے ہتھیار جمع کروارہے ہیں۔

ہفتے کے روز طرابلس کے مارتی چوک اور بن غازی کے لبرٹی چوک کے مراکز پر لوگ لمبی قطاروں میں کھڑے دکھائی دیے، جنہوں نے اپنے ہاتھوں میں ہتھیار اور گولہ بارود اٹھا رکھاتھا۔
اس مہم کا مقصد وہ اسلحہ اور گولہ بارو اکھٹا کرنا ہے جو گذشتہ سال انقلابی تحریک کے خاتمہ کے بعد لوگوں کے پاس بچ گیاتھا۔

اس مہینے بن غازی کے امریکی قونصل خانے پر ایک حملے کے بعد جس میں امریکی سفیر اور تین دوسرے امریکی سفارت کار ہلاک ہوگئے تھے، ہزاروں شہریوں نے ایک ملیشیا تنظیم کے خلاف مظاہروں کے لیے اپنے گھروں سے باہر نکل آئے تھے۔

مظاہرین نے بن غازی میں ملیشیا کے مرکز پر قبضہ کرلیا اور جہادی تنظیم انصارالشریعہ کے جنگجوؤں کو ان کے ہیڈکوارٹرز سے بے دخل کردیا۔ اس تنظیم پرشبہ ہے کہ وہ امریکی عہدے داروں کی ہلاکتوں میں ملوث تھی، لیکن وہ اس الزام سے ا نکار کرتی ہے۔

لیبیا کے صدر محمد المقریف نے 11 ستمبر کو امریکی قونصلیٹ پر حملے کو ایک منصوبہ بند دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے اس پر تنقید کی تھی۔

امریکی حکومت نے ابتدا میں یہ کہاتھا کہ مذکورہ حملہ امریکہ میں تیار کی گئی اسلام دشمن ویڈیو کے خلاف مظاہرے کا نتیجہ تھا لیکن بعد اس ہفتے امریکی انتظامیہ نے تصدیق کی کہ امریکی عہدے داروں کو ایک باقاعدہ دہشت گرد منصوبے کے تحت ہلاک کیا گیاتھا۔
XS
SM
MD
LG