رسائی کے لنکس

ستائیس فروری 2016 ۔۔۔۔ کچھ تو کہئے ۔۔۔ میزبان شہناز عزیز


ہمارے مہمان ہیں ،لکھنو میں صف اول کے نقاد اور شاعر ڈاکٹر شارب ردولوی صاحب ․ جن کا پہلا عشق اگرچہ شاعری تھی لیکن تنقید پر ان کی پندرہ کتابیں م شائع ہو چکی ہیں ٴ لیکن مجموعہ کلام مرتب کرنے کا خیال انہیں نہیں آیا ۔۔۔۔ ادب پر بات کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں ، ’یہ صحیح ہے کہ سماج ادب کی تخلیق کے لیے کوئی تنظیم یا منصوبہ بندی نہیں کرتا اور مختلف انفرادی کوشش ہی ادب کی تخلیق کرتی ہیں لیکن اس سے یہ مطلب نہیں نکالا جاسکتا کہ سماج سے اس کا کوئی رشتہ نہیں ہوتا ۔ اس سے پہلے یہ بات کہی جاچکی ہے کہ سماج کا اثر شخصیت پر اور شخصیت کا اثر سماج پر پڑتا ہے اس لیے کوئی تخلیق بھی ان اثرات سے علیحدہ نہیں رہ سکتی جو سماجی یا دوسرے لفظوں میں اجتماعی ہیں۔ ’’ اگر آپ اس پروگرام کے مہمانوں سے کچھ پوچھنا چاہیں تو مفت کال کرکے، یا فیس بک پر سوال بھیج کر، پاکستان میں رات دس بجے اور بھارت میں رات ساڑھے دس بجے ۔۔۔ ہمارے لائیو شو میں شرکت بھی کر سکتے ہیں ۔۔۔

XS
SM
MD
LG