رسائی کے لنکس

logo-print

افغانستان: بدعنوانی میں ملوث 20 افراد کو سزائیں


ملزمان کی بد عنوانیوں اور غبن کے باعث 'کابل بینک' 2010ء میں دیوالیہ ہوگیا تھا جس کے بعد افغانستان کی معیشت بحران سے دوچارہوگئی تھی۔

افغانستان کی ایک عدالت نے کروڑوں ڈالرز کے غبن اور بدعنوانی میں ملوث ہونے پر ملک کے مرکزی بینک کے دو سابق سربراہوں سمیت 20 ملزمان کو قید کی سزائیں سنائی ہیں۔

ملزمان کی بد عنوانیوں اور غبن کے باعث 'کابل بینک' 2010ء میں دیوالیہ ہوگیا تھا جس کے بعد افغانستان کی معیشت بحران سے دوچارہوگئی تھی۔

بینک میں ہونے والے غبن کا تخمینہ 935 ملین ڈالرز لگایا گیا تھا جس پر افغان حکومت کو امداد دینے والے عالمی اداروں اور ممالک کی کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔


منگل کو دارالحکومت کابل کی ایک خصوصی عدالت نے غبن کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے 22 نامزد ملزمان میں سے 20 کو قید کی سزائیں سنائیں۔

عدالت کے جج شمس الرحمن شمس نے بینک کے بانی سربراہ شیر خان فرنود اور اور سابق چیف ایگزیکٹو افسر حاجی خلیل فیروزی کو پانچ، پانچ سال قید کی سزا سنائی ہے۔

فیصلے کے مطابق دونوں ملزمان بالترتیب 279 ملین ڈالرز اور 531 ملین ڈالرز کی رقم بھی واپس لوٹائیں جو انہوں نے غبن کی تھی۔

عدالت نے باقی ماندہ 18 ملزمان کو – جن میں سے چار بھارتی شہری ہیں – چار سے پانچ سال قید کی سزائیں سنائی ہیں۔

مقدمے کے جن دو دیگر شریک ملزمان کو سزائیں نہیں سنائی گئیں وہ افغان صدر حامد کرزئی اور ان کے سابق نائب صدر محمد قاسم فہیم کے بھائی ہیں جو 'کابل بینک' کے حصص کے مالک بھی تھے۔

یہ دونوں افراد صدر حامد کرزئی کی جانب سے گزشتہ برس جاری کیے جانے والے ایک حکم نامے کے باعث سزائوں سے بچ نکلے ہی جس میں سرکاری فنڈز واپس کرنے والوں کو سزائوں سے مستثنی قرار دے دیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ دیوالیہ ہونے کے بعد افغان حکومت نے بینک کو سرمایہ فراہم کیا تھا جس کے بعد اس نے 'نیو کابل بینک' کے نام سے از سرِ نو سرگرمیاں شروع کی تھیں۔
XS
SM
MD
LG