رسائی کے لنکس

logo-print

افغان صدر کرزئی کے دورۂ پاکستان کا اعلان


سنہ 2002 میں افغان صدر کا منصب سنبھالنے والے حامد کرزئی اب تک اسلام آباد کے 19 سرکاری دورے کرچکے ہیں۔

افغانستان کے صدر حامد کرزئی رواں ماہ کے آخر میں پاکستان کا دورہ کریں گے جس میں وہ مقامی قیادت کے ساتھ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی از سرِ نو بحالی اور طالبان کے ساتھ مذاکرات میں اسلام آباد کی معاونت پر گفتگو کریں گے۔

اسلام آباد میں افغانستان کے سفیر عمر داؤد زئی نے پیر کو برطانوی خبر رساں ایجنسی 'رائٹرز' کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ صدر کرزئی رواں ماہ پاکستان کا دورہ کریں گے۔

پاکستان میں وزیرِاعظم میاں محمد نواز شریف کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد افغان صدر کا پڑوسی ملک کا یہ پہلا دورہ ہوگا۔ سنہ 2002 میں افغان صدر کا منصب سنبھالنے والے حامد کرزئی اب تک اسلام آباد کے 19 سرکاری دورے کرچکے ہیں۔

'رائٹرز' کے مطابق صدر کرزئی کے ایک ترجمان نے بتایا ہے کہ افغان صدر 26 سے 28 اگست تک پاکستان کا دورہ کریں گے جس میں ان کے ہمراہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کی نگران 'اعلیٰ امن کونسل' کے قائدین بھی ہوں گے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان ماضی میں کئی بار تعلقات انتہائی کشیدہ ہوچکے ہیں اور افغان حکومت پاکستان پر طالبان شدت پسندوں کا ساتھ دینےکا الزام عائد کرتی آئی ہے۔

لیکن امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ پاکستان میں نئی حکومت کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات از سرِ نو قائم ہوسکیں گے۔

کابل حکومت، امریکہ اور مغربی ممالک کا موقف ہے کہ پاکستان افغان طالبان کو گزشتہ 12 برسوں سے جاری جنگ ختم کرنے اور کابل حکومت کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے پر آمادہ کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

پاکستانی حکومت افغانستان میں قیامِ امن کے لیے جاری کوششوں کے لیے ہر ممکن حمایت کا اعلان کرتی آئی ہے لیکن افغان حکام اکثر و بیشتر پاکستان پر 'ڈبل گیم' کرنے کا الزام عائد کرتے ہیں۔
XS
SM
MD
LG