رسائی کے لنکس

logo-print

افغانستان: افغان پارلیمان کی خاتون رکن، طالبان کی قید سے رہا


فریبہ احمدی کاکڑ، افغان ایوان ِ زیریں کی رکن ہیں جنہیں 13 اگست کو افغانستان کے مشرقی صوبے غزنی سے اس وقت اغواء کر لیا گیا تھا جب وہ اپنی گاڑی میں سفر کر رہی تھیں۔

افغانستان میں طالبان اور حکومتی عہدیداروں کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ تین ہفتے سے طالبان کی تحویل میں موجود افغان پارلیمان کی خاتون رکن کو قیدیوں کے تبادلے میں طالبان سے رہائی مل گئی ہے۔

فریبہ احمدی کاکڑ، افغان ایوان ِ زیریں کی رکن ہیں جنہیں 13 اگست کو افغانستان کے مشرقی صوبے غزنی سے اس وقت اغواء کر لیا گیا تھا جب وہ اپنی گاڑی میں سفر کر رہی تھیں۔

فریبہ احمدی کاکڑ، غزنی صوبے میں ہی ایک ہفتے میں اغواء ہونے والی افغان پارلیمنٹ کی دوسری خاتون رکن تھیں۔ ان کے اغواء ہونے سے افغانستان میں خواتین کی سیکورٹی کے بڑھتے مسائل اور ان پر حملوں میں اضافے کی تشویش میں اضافہ ہوا تھا۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق فریبہ کاکڑ کی رہائی طالبان عہدیداروں کی رشتہ دار ان چار خواتین اور دو بچوں کی رہائی کے بدلے میں عمل میں لائی گئی ہے جو افغان حکومت کی تحویل میں تھے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں حامد کرزئی کی مغرب نواز حکومت کے لیے خواتین کے حقوق اور ان کی حفاظت کو یقینی بنانا ایک چیلنج بنتا جا رہا ہے۔
XS
SM
MD
LG