رسائی کے لنکس

logo-print

تشدد سے متاثرہ افراد کے لیے نئے قانون کی ضرورت پر زور


فائل فوٹو

انسانی حقوق کے سرگرم کارکنان افغانستان کے صدر اشرف غنی پر زور دے رہے ہیں کہ وہ چند ماہ قبل منظور کیے گئے انسداد تشدد کے قوانین کا دائرہ ان متاثرین تک بھی بڑھایا جائے جو سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں تشدد کا شکار ہوتے ہیں تاکہ انھیں بھی معاونت اور معاوضہ مل سکے۔

"ری ڈریس اینکس" نامی ضمنی مجوزہ قانون متاثرین کو یہ حق دے گا کہ وہ حکومت کے خلاف عدالت سے رجوع کر سکیں۔ کارکنان کے مطابق موجودہ قانون میں اس طرح کا کوئی اختیار شہریوں کو حاصل نہیں ہے۔

اس مجوزہ قانون کے حامیوں کو امید ہے کہ صدر غنی اسے قانون کا حصہ بنانے کے لیے حکم نامے پر دستخط کر دیں گے۔ لیکن تاحال صدر کے دفتر سے اس بارے میں کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

فی الوقت یہ حکومت پر منحصر ہے کہ وہ اپنی سکیورٹی فورسز کے ان ارکان کے خلاف تحقیقات اور مقدمہ چلا سکتی ہے جن پر تشدد کا الزام ہو۔

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم 'ہیومن رائٹس واچ' کی سینیئر محقق پیٹریشیا گوزمین نے ایک بیان میں کہا اس اینکس کو قانون کا حصہ بنایا جانا ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر استغاثہ کی طرف سے متاثرین کے معاملے پر تاخیر ہوتی ہے تو "اس نئے قانون کے ذریعے حکومت کو کٹہرے میں لانے کا راستہ مل سکے گا۔"

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG