رسائی کے لنکس

logo-print

افغانستان: فرانسیسی فوٹو گرافر شدت پسندوں کے قبضے سے فرار


افغان وزارت داخلہ کے حکام نے بتایا کہ پیئر بروخی کو زیر زمین ایک گڑھے میں نہایت سفاکانہ انداز میں زنجیروں سے باندھ کر رکھا گیا تھا جہاں سے وہ بالآخر فرار ہوکر صوبہ وردک میں ایک افغان چیک پوسٹ تک پہنچنے میں کامیاب ہوگیا۔

افغانستان میں چار ماہ قبل اغوا ہونے والا ایک فرانسیسی فوٹوگرافر اغوا کاروں سے قبضے سے فرار ہو کر اپنے سفارتخانے کے حکام کے پاس بحفاظت پہنچ گیا ہے۔

فرانس کی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان کے مطابق یہ دوسرا فرانسیسی مغوی تھا جو اغوا کاروں کے چنگل سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو گیا۔ انھوں نے اس کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

افغان وزارت داخلہ کے حکام نے بتایا کہ 29 سالہ فری لانس فوٹو گرافر پیئر بروخی کو زیر زمین ایک گڑھے میں نہایت سفاکانہ انداز میں زنجیروں سے باندھ کر رکھا گیا تھا جہاں سے وہ بالآخر فرار ہو کر صوبہ وردک میں ایک افغان چیک پوسٹ تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا۔

وزارت داخلہ کے ترجمان نے بتایا کہ بروخی کا تعلق جنوب مشرقی فرانس کے علاقے گرینوبل سے ہے اور اسے کابل میں وزارت داخلہ لانے کے بعد فرانسیسی سفارتخانے کے حکام کے سپرد کر دیا گیا۔

ترجمان کے بقول بروخی کی صحت ٹھیک تھی۔ فرانسیسی سفارتخانے نے اس واقعے پر کسی بھی طرح کے ردعمل سے گریز کیا ہے۔

حکام کے مطابق بروخی کو گزشتہ سال 28 نومبر کو کابل کی ایک مصروف گلی سے چار مسلح افراد نے اغوا کیا اور بعد ازاں اسے مختلف مقامات پر منتقل کرتے رہے۔

افغان ترجمان کا کہنا تھا کہ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ بروخی کو پہلے منظم جرائم پیشہ عناصر نے اغوا کیا اور پهر عسکریت پسندوں کے ہاتھ فروخت کردیا تھا۔
XS
SM
MD
LG