رسائی کے لنکس

کابل: مسلح افراد کے حملے میں جرمن خاتون اور افغان محافظ ہلاک


فائل فوٹو

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک جرمن خاتون امدادی کارکن اور ان کے افغان محافظ کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا اور فن لینڈ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کو زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔

افغان وزارت داخلہ کے مطابق یہ واقعہ ہفتہ کو دیر گئے دارالامان روڈ پر ایک گیسٹ ہاؤس کے باہر پیش آیا۔

یہاں سویڈن کی ایک غیر سرکاری امدادی تنظیم "آپریشن مرسی" کے کارکنان قیام پذیر ہیں۔

وزارت کے ترجمان نجیب دانش کا کہنا ہے کہ ایک تیسرے غیر ملکی کو مسلح افراد سے بچا لیا گیا اور واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

غیر سرکاری تنظیم کی طرف سے تاحال اس بارے میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے اور نہ ہی فی الوقت کسی فرد یا گروہ نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

کابل میں اغوا برائے تاوان کے واقعات افغان حکام کے لیے ایک چیلنج رہے ہیں اور اسی وجہ سے غیر ملکی شہری یہاں آزادانہ نقل و حرکت سے گریزاں رہتے ہیں۔

دریں اثناء طالبان عسکریت پسندوں نے جنوبی صوبہ زابل میں کم از کم 20 پولیس اہلکاروں کو ہلاک اور لگ بھگ ایک درجن کو زخمی کر دیا ہے۔

صوبائی گورنر بسم اللہ افغانمل نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ہفتہ کو دیر گئے عسکریت پسندوں نے دو اضلاع میں سکیورٹی کی چوکیوں پر حملہ کیا۔ ان کے بقول حملہ آوروں کا بھی بڑا جانی نقصان ہوا لیکن انھوں نے اس کی تفصیل فراہم نہیں کی۔

گورنر کا کہنا تھا کہ علاقے میں اب بھی لڑائی جاری ہے۔ سکیورٹی حکام نے وائس آف امریکہ کو تصدیق کی ہے کہ طالبان نے متعدد چوکیوں پر قبضہ کر لیا ہے۔

لڑائی کا یہ علاقہ کابل کو جنوبی شہر قندھار سے ملانے والی مرکزی شاہراہ پر واقع ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG