رسائی کے لنکس

logo-print

افغان صدر کے منصوبے کے لیے کلنٹن کی حمایت



امریکی وزیرِخارجہ ہلری کلنٹن نے کہا ہے کہ طالبان لشکریوں کو دوبارہ معاشرے کا حصّہ بنانے کے بارے میں افغان صدر حامد کرزئى کے منصوبے سے افغانستان کو مزید استحکام اور سلامتی مِلے گی۔

وزیرِ خارجہ کلنٹن نے جمعرات کے روز لندن میں تقریباً 70 ملکوں کے اُن مندوبین سے خطاب کیا، جو افغانستان کو مستحکم کرنے اور افغان جنگ کو کسی اختتام تک پہنچانے کی کوئى حکمت عملی وضع کرنے کے بارے مذاکرات کے لیے برطانیہ میں یکجا ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صحیح ترغیبات فراہم کی جائیں تو بہت سے نچلی سطح اور درمیانی سطح کے طالبان لشکری افغان جمہوریت کا ایک حصّہ بن سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ تشدّد کو ترک کردیں اور افغانستان کے آئین کے تمام تقاضوں کو قبول کرلیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ، طالبان کی معاشرے میں از سرِ نو بحالی کی کوششوں مدد کے لیے کسی بین الاقوامی ٹرسٹ فنڈ کے آغاز کا منتظر ہے۔

اس سے پہلے افغان صدر کرزئى نے طالبان کی از سرِ نو بحالی کے اُس منصوبے کا باضاطہ اعلان کیا، جس کا مقصدطالبان لشکریوں کو ملازمت اور رہائشی سہولت کی پیشکش کے ساتھ دوبارہ معاشرتی دھارے میں شامل ہوجانے کی ترغیب دینا ہے۔

مسٹر کرزئى نے مندوبین سے کہا ہے کہ افغانستان کو لازماً اُن بھائیوں تک ہاتھ بڑھانا چاہئیے، جن کی آنکھیں کُھل گئى ہیں اور جو القاعدہ یاکسی اور دہشت گرد نیٹ ورک کا حصّہ نہیں ہیں۔

افغان صدر نے قیامِ امن کے عمل کی مدد کے لیے پاکستان اور سعودی عرب کی جانب سے حمات کا مطالبہ بھی کیا۔

مسٹر کرزئى نے کہا ہے کہ وہ افغانستان میں قومی مصالحت پر غور کر نے کے لیے عمائدین کا کوئى امن جرگہ طلب کریں گے۔

XS
SM
MD
LG