رسائی کے لنکس

logo-print

افغانستان، امریکہ کی جانب سے کابل حملے کی مذمت


مسٹر کرزئی نے کہا ہے کہ حملہ ناکام رہا۔ لیکن، اُنھوں نے مزید کہا کہ افغانستان کے ’دشمنوں‘ نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ ملک کے امن اور استحکام کےمخالف ہیں

افغان صدر حامد کرزئی نے کابل میں صدارتی محل کے نزدیک ہونے والے طالبان کے حملے کی مذمت کی ہے، جس میں سلامتی سے متعلق تین محافظ ہلاک ہوئے۔

مسٹر کرزئی نے کہا کہ حملہ ناکام رہا۔ لیکن، اُنھوں نے مزید کہا کہ افغانستان کے ’دشمنوں‘ نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ ملک کے امن اور استحکام کےمخالف ہیں۔

حکام نے بتایا ہے کہ منگل کے روز بارود سے بھری دو موٹر گاڑیوں میں سوار مسلح افراد نے محل کے احاطے میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ اُنھوں نے بتایا کہ اُن میں سے ایک گاڑی میں سوار لوگوں نےفوجی وردی اور جعلی کاغذات کی مدد سے چیک پوائنٹ پر عملے کو دھوکہ دے کر اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوئے۔

افغان حکام نے بتایا ہے کہ دوسری گاڑی کو دروازے سے باہر ہی روکا گیا، ایسے میں جب دونوں گاڑیوں میں سوار حملہ آوروں نے گولیاں چلانا شروع کیں اور دھماکہ خیز مواد کو آگ لگا دی۔

حکام نے کہا ہے کہ حملے میں ملوث تمام مسلح لوگوں کو ہلاک کردیا گیا۔

طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے، جو ایسے وقت ہوئے ہیں جب قطر میں اس گروپ کے نئے سیاسی دفتر میں طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کو فروغ دینے کی کوششیں جاری ہیں۔

منگل کے روز جاری ہونے والے ایک بیان میں مسٹر کرزئی نے کہا کہ طالبان قطر میں ’غیر ملکیوں‘ سے بات کر رہے ہیں، جب کہ افغان سولینز کو ہلاک کر رہے ہیں۔ اُن کے بقول، ’اُنھیں افغانستان کے عوام کا خیال کرنا چاہیئے‘۔

’وائس آف امریکہ‘ کی ’ڈیوا سروس‘ کے ساتھ ایک انٹرویو میں ’امریکن انٹرپرائیز انسٹی ٹیوٹ افغانستان‘ سے وابستہ ایک ماہر، احمد مجیدیار نے کہا ہے کہ تشدد کی جاری کارروائیاں ظاہر کرتی ہیں کہ گروپ امن بات چیت میں سنجیدہ نہیں ہے۔

تاہم، ’سینٹر فور اسٹریٹجک اینڈ ینٹرنیشنل اسٹڈیز‘ سے وابستہ ماہر، اینتھونی کورڈزمین نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ طالبان نے قطر کا دفتر تو قائم کرلیا، لیکن اس موقعے پر اُنھوں نےباضابطہ طور پر تشدد کی مذمت نہیں کی۔

منگل کا یہ دھماکہ ایسے وقت ہوا ہے جب کابل میں مسٹر کرزئی کے ساتھ بات چیت کے بعد امریکی ایلچی، جیمز ڈوبنز کابل سے روانہ ہونے والے تھے۔ اس بات چیت کا مقصد مفاہمتی مذاکرات کو فروغ دینا تھا۔

ڈوبنز ہمسایہ ملک پاکستان چلے گئے ہیں، جسے مفاہمتی مذاکرات میں ایک کلیدی کھلاڑی کی حیثیت حاصل ہے۔

ادھر، امریکہ نے اس حملےکی مذمت کی ہے۔

ایک بیان میں افغانستان میں امریکی سفیر جمیز کننگھم نے کہا ہے کہ حملہ آوروں کا مارا جانا اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ اپنی اہداف کے حصول کے لیے تشدد کی راہ اپنانے سے طالبان اپنے عزائم میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔
XS
SM
MD
LG