رسائی کے لنکس

logo-print

عرب لیگ کی جانب سے اسرائیل فلسطین بالواسطہ مذاکرات کی حمایت


اسرائیلی وزیر اعظم بن یامن نتن یاہو نے عرب لیگ کی جانب سے فلسطینیوں کے ساتھ بالواسطہ گفت وشنید کی حمایت کو سراہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ فی الفور مزاکرات دوبارہ شروع کرانے کو تیار ہیں۔

مسٹر نتن یاہو کے دفتر کا کہنا ہے کہ وہ بالواسطہ بات چیت کے لئے فلسطینیوں کی منظوری کا انتظار کر رہے ہیں۔

ایک فلسطینی قانون ساز حسن اشوری نے کہا ہے کہ گفت و شنید کو کامیاب بنانے کے لئے ضروری ہے کہ اسرائیل مشرقی یروشلم اور دوسری جگہوں پر آبادکاری بند کرے۔

اسرائیل یروشلم میں، جسے فلسطینی اپنی مستقبل کی ریاست کا صدر مقام بنانا چاہتے ہیں، مکانات کی تعمیر کو خاموشی سے کم کئے جا رہا ہے۔

عرب لیگ نے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان بالواسطہ امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی حمایت کی ہے ،جس سے مشرق وسطیٰ کے تعطل کے شکار امن عمل کے بحال ہونے کی توقعات میں اضافہ ہوگیا ہے۔

اس فیصلے کا اعلان ہفتے کے روز قاہرہ ،مصر میں عرب لیگ کے کئی اہم رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد کیا گیا ۔

عرب لیگ کی جانب سے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن عمل کی بحالی کی یہ حمایت ،امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن کے اس اعلان کے بعد سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بالواسطہ مذاکرات چند روز کے اندر شروع ہوجائیں گے۔

مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی امریکی مندوب جارج مچل کی آئندہ چندروز خطے میں آمد میں متوقع ہے۔وہ دونوں فریقوں کو براہ راست مذاکرات پر آمادہ کرنے کی غرض سے اسرائیلی اور فلسطینی عہدےداروں سے الگ الگ ملاقاتیں کریں گے۔

امریکہ فلسطینوں کے لیے اپنی ایک ریاست کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے عرب ممالک سے یہ کہہ چکاہے کہ وہ اسرائیل فلسطین امن مذاکرات شروع کرانے میں مدد دیں،



XS
SM
MD
LG