رسائی کے لنکس

logo-print

ایریزونا: تارکین وطن کا متنازع قانون نافذ


عدالت نے اپنے فیصلے میں حکام کو ان افراد سے پوچھ گچھ کی اجازت دیدی ہے جن پر شبہ ہو کہ وہ امریکہ میں غیرقانونی طور پر مقیم ہیں۔

امریکہ کی ایک وفاقی عدالت نے سرحدی ریاست ایریزونا کے حکام کو اس متنازع قانون کے نفاذ کی اجازت دیدی ہے جس کے تحت پولیس اہلکار جرائم کی تحقیقات کے دوران میں ملزم تارکینِ وطن کے امریکہ میں قیام کے اجازت ناموں کی جانچ پڑتال کرسکیں گے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں حکام کو ان افراد سے پوچھ گچھ کی اجازت دیدی ہے جن پر شبہ ہو کہ وہ امریکہ میں غیرقانونی طور پر مقیم ہیں۔

یہ اجازت تارکینِ وطن سے متعلق ایریزونا کے اس ریاستی قانون کی ایک اہم شق ہے جس پر گزشتہ دو برس سے قانونی جنگ جاری تھی۔ رواں برس جون میں امریکہ کی عدالتِ عظمیٰ نے مجوزہ قانون کے جائزے کے دوران میں مذکورہ شق کو برقرار رکھا تھا لیکن قانون کی دیگر کئی دفعات مسترد کردی تھیں۔

بعد ازاں شہری آزادیوں کے لیے سرگرم بعض وکلا اور تارکینِ وطن کے حقوق کے لیے کام کرنے والی بعض انجمنوں نے اس شق کو ایک وفاقی عدالت میں چیلنج کردیا تھا۔

درخواست گزاروں نے موقف اختیار کیا تھا کہ حکام کو مشتبہ افراد کے امریکہ میں قیام کے اجازت ناموں کی جانچ پڑتا ل کا اختیار دینے سے نسلی امتیاز میں اضافے اور لاطینی نژاد افراد کو طویل عرصے تک حراست میں رکھنے کے واقعات میں اضافہ ہوگا۔

لیکن بدھ کو اپنے فیصلے میں عدالت نے درخواست گزاروں کے اس موقف کو رد کرتے ہوئے ریاستی حکام کو مذکورہ شق کے نفاذ کی اجازت دیدی۔

مذکورہ فیصلے سے قبل ایریزونا کے گورنر جان بریور کے وکلا نے عدالت سے مذکورہ شق کے نفاذ کی اجازت دینے کی استدعا کی تھی۔ وکلا کا موقف تھا کہ قانون کے مخالفین کا یہ خدشہ بے بنیاد ہے کہ اس کے نتیجے میں نسلی امتیاز کو ہوا ملے گی۔
XS
SM
MD
LG