رسائی کے لنکس

logo-print

بلوچستان یونیورسٹی کی خاتون پروفیسر کے قتل کے خلاف مظاہرے جاری


بلوچستان یونیورسٹی کی خاتون پروفیسر کے قتل کے خلاف مظاہرے جاری

صوبے کی سب سے بڑی بلوچستان یونیورسٹی کی اسٹنٹ پروفیسر ناظمہ طالب کے قتل کے خلاف مظاہرے جاری ہیں اور جمعرات کو یونیورسٹی میں اس حوالے سے ایک تعزیتی ریفرنس بھی منعقد کیا گیا جس میں مقتولہ پروفیسر کی خدمات کو سراہا گیا اور حکومت سے اُن کے قاتلوں کی گرفتا ری کا بھی مطالبہ کیا گیا۔

خیال رہے کہ پروفیسر ناظمہ طالب کو دو روز قبل کوئٹہ میں دن دیہاڑے نامعلوم افراد نے خود ہتھیاروں سے حملہ کر کے ہلاک کردیا تھا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہو ئے بلوچستان یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر رسول بخش رئیسانی نے کہا کہ صوبے میں امن وامان کی بگڑتی ہوئی صورت حال سے شعبہ تعلیم سے منسلک افراد بھی عدم تحفظ کاشکار ہیں ۔

اس موقع پر دیگر مقررین نے بھی کہا کہ اساتذہ کو ہدف بنا کر ہلاک کرنے سے صوبے میں تعلیم کے شعبے کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے اور اُن کے مطابق امن وامان کی خراب صورت حال کے باعث 30 سے زائد پی ایچ ڈی اساتذہ صوبہ چھوڑ کر پہلے ہی جا چکے ہیں۔

خیال رہے کہ بلوچستان یونیورسٹی کے سابق پرو وائس چانسلر صفدر علی کوبھی دو سال قبل ہدف بناکر قتل کیاگیاتھا جب کہ اُس کے بعد سے اب تک ایک درجن سے زائد اساتذہ کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا ہے جس میں زیادہ تر تعداد دوسرے صوبوں سے تعلق رکھنے والے اساتذہ کی ہے۔ تاہم ہدف بنا کر قتل کیے جانے والے اساتذہ میں پروفیسر ناظمہ طالب پہلی خاتون ہیں ۔

بلوچستان یونیورسٹی کے طالب علموں کابھی کہنا ہے کہ امن و امان کی اس بگڑتی ہوئی صورت حال کے باعث وہ اپنے تعلیمی مستقبل کے حوالے سے بے یقینی کا شکار ہیں۔

XS
SM
MD
LG