رسائی کے لنکس

logo-print

بنگلہ دیشی چیف جسٹس کے گھر پرحملہ


بنگلہ دیشی چیف جسٹس کے گھر پرحملہ

بنگلہ دیش کی پولیس کا کہنا ہے کہ جمعرات کو ملک کے چیف جسٹس کی رہائش گاہ پر دستی بموں سے حملہ کیا گیا ہے تاہم واقعہ میں کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

پولیس کے مطابق دارالحکومت ڈھاکہ میں واقع جسٹس خیرالحق کی رہائش گاہ پر ہونےو الے دھماکے بظاہر دستی بموں کے تھے جنہیں رہائش گاہ کے ساتھ واقع گلی سے ان کے گھر کے صحن میں پھینکا گیا تھا۔ واقعہ کے وقت چیف جسٹس اپنے گھر میں موجود تھے۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب چند روز پہلےبنگلہ دیشی حکومت کی جانب سے ملک کی سابق وزیرِ اعظم اور اپوزیشن رہنما خالدہ ضیاء کو فوج کی طرف سے فراہم کردہ گھر سے جبری بے دخل کیا گیاہے۔ خالدہ ضیاء کے حامیوں نے چیف جسٹس خیر الحق سے اپیل کی تھی کہ وہ ایک ذیلی عدالت کی جانب سے جاری کیے گئے اپوزیشن رہنما سے سرکاری گھر خالی کرانے کے حکم نامے کو کالعدم قرار دیں تاہم چیف جسٹس نے معاملے میں مداخلت کرنے سے انکار کردیا تھا۔

اپوزیشن رہنما سے ان کی رہائش گاہ خالی کرانے کے واقعہ کے بعد ہفتہ اور اتوار کے روز ملک بھر میں بیگم خالدہ ضیاء کی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے کارکنوں کی جانب سے پرتشدد مظاہرے کیے گئے تھے۔

واضح رہے کہ 1981 میں بیگم خالدہ کے شوہر اور اس وقت کے صدر جنرل ضیاءالرحمن ملک میں ہونے والی ایک فوجی بغاوت میں ہلاک ہوگئے تھے جسے بعد میں ناکام بنادیا گیا تھا۔ شوہر کی ہلاکت کے بعد اس وقت کی حکومت کی جانب سے سابق صدر کی بیوہ کو انسانی ہمدردی کے طور پر رہائش کیلیے مذکورہ مکان فراہم کیا گیا تھا۔

تاہم خالدہ ضیاء کی سخت مخالف سمجھی جانے والی بنگلہ دیش کی موجودہ وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد کی حکومت نے گزشتہ سال مذکورہ مکان کی لیز یہ کہتے ہوئے منسوخ کردی تھی کہ بیگم خالدہ مکان کو سیاسی سرگرمیوں کیلیے استعمال کررہی ہیں جو کہ لیزنگ کے معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔

XS
SM
MD
LG