رسائی کے لنکس

logo-print

بن لادن کے داماد کا خود پر عائد الزامات سے انکار


اسامہ بن لادن کے داماد نے امریکہ کی ایک عدالت میں خود پر عائد کیے جانے والے الزامات کی صحت سے انکار کیا ہے۔

اسامہ بن لادن کے داماد نے امریکہ کی ایک عدالت میں خود پر عائد کیے جانے والے الزامات کی صحت سے انکار کیا ہے۔

سلیمان ابو غیث – جو القاعدہ کے سابق ترجمان بھی ہیں - کو جمعے کو نیویارک کی ایک وفاقی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں انہوں نے اپنے خلاف پیش کی گئی فردِ جرم سے انکار کیا۔

سلیمان ابو غیث کو امریکی حکام نے اردن سے گرفتار کیا تھا۔ وہ 'القاعدہ' کے بانی رہنما اسامہ بن لادن کی صاحبزادی فاطمہ کے شوہر ہیں اور اب تک امریکہ میں عدالتی کاروائی کا سامنا کرنے والے بن لادن کے قریب ترین رشتے دار ہیں۔

جمعے کو سلیمان کو عدالت میں ہتھکڑیاں لگا کر پیش کیا گیا۔ باریش ملزم نے جیل کی نیلی وردی زیب تن کر رکھی تھی ۔ملزم کی جانب سے وکیل کے اخراجات برداشت کرنے سے معذوری ظاہر کرنے کے بعد عدالت کی جانب سے انہیں سرکاری وکیل مہیا کیا گیا۔

استغاثہ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ابو غیث نے گرفتاری کے بعد امریکی حکام کو ایک تفصیلی بیان ریکارڈ کرایا ہے جو 22 صفحوں پر مشتمل ہے۔ تاہم وکیل نے بیان کی تفصیلات نہیں بتائیں۔

عدالت نے کہا ہے کہ مقدمہ کی باقاعدہ سماعت کی تاریخ کا اعلان اگلی سماعت میں کیا جائے گا جو آئندہ ماہ ہوگی۔

استغاثہ کی جانب سے پیش کی جانے والی فردِ جرم میں سلیمان ابو غیث پر امریکیوں کے قتل کی سازش تیار کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

فردِ جرم میں کہا گیا ہے کہ 11 ستمبر 2001ء کے حملوں کے بعد ابو غیث نے انٹرنیٹ پر جاری کی جانے والی اپنی ویڈیوز میں ان حملوں پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ 'القاعدہ' لاکھوں امریکیوں کو قتل کرنے کی اہل ہے۔

استغاثہ کے مطابق حملوں کے ایک روز بعد ابو غیث نے اپنے ایک بیان میں مسلمانوں پر زور دیا تھا کہ وہ یہودیوں، عیسائیوں اور امریکیوں کے خلاف جنگ کریں۔

دریں اثنا ایک ترک اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ سلیمان ابو غیث کو ترکی کے دارالحکومت انقرہ کے ایک پرتعیش ہوٹل سے گرفتار کیا گیا تھا۔

اخبار کے مطابق گرفتاری کے بعد القاعدہ رہنما کو اردن بھیج دیا گیا تھا جہاں امریکی انٹیلی جنس اہلکاروں نے اسے اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔

ترک حکام نے اس خبر پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔
XS
SM
MD
LG