رسائی کے لنکس

logo-print

برطانیہ: تین مسلمانوں پر دہشت گردی کے مقدمے کا آغاز


تینوں ملزمان نے دہشت گردی کی کاروائیاں کرنے کا فیصلہ القاعدہ کے امریکی نژاد مبلغ انور الاولکی کے خطابات سن کر کیا تھا جو گزشتہ برس یمن میں ایک امریکی ڈرون حملے میں مارا گیا تھا۔

برطانیہ میں دہشت گردی کی کاروائیوں کی سازش تیار کرنے الزام میں گرفتار کیے جانے والے تین مسلمانوں کے خلاف مقدمے کی کاروائی لندن کی ایک عدالت میں شروع ہوگئی ہے۔

پولیس کے کڑے پہرے میں جمعے کو ہونے والی پہلی سماعت کے موقع پر استغاثہ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ تینوں ملزمان کاندھے پر لادے جانے والے آٹھ بستوں میں بم بھر کر خود کش حملے کرنے یا پرہجوم علاقوں کو ٹائم بموں کے ذریعے نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

وکیلِ استغاثہ کے مطابق ملزمان کی یہ مجوزہ کاروائیاں 7 جولائی 2005ء میں لندن کے زیرِ زمین ٹرین اسٹیشن اور بس اڈوں پر کیے جانے والے ان بم حملوں سے کہیں زیادہ خوف ناک ثابت ہوتیں جن میں 52 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

عرفان نصیر، عرفان خالد اور عاشق علی نامی تینوں ملزمان نے خود پر عائد کیے جانے والے الزامات کی صحت سے انکار کیا ہے۔ یاد رہے کہ حکام نے ان افراد کو ستمبر 2011ء میں برمنگھم سے حراست میں لیا تھا۔

استغاثہ کے وکیل نے عدالت کو مزید بتایا کہ تینوں ملزمان نے دہشت گردی کی کاروائیاں کرنے کا فیصلہ القاعدہ کے امریکی نژاد مبلغ انور الاولکی کے خطابات سن کر کیا تھا جو گزشتہ برس یمن میں ایک امریکی ڈرون حملے میں مارا گیا تھا۔

استغاثہ کے مطابق نصیر اور خالد نے ان کاروائیوں کی تربیت لینے کی غرض سے پاکستان کا دورہ کیا تھا جس میں انہوں نے زہر اور بم تیار کرنے اور 'شہادت' کی ویڈیوز بنانے کی تربیت لی تھی۔

استغاثہ کے مطابق برطانیہ واپسی کے بعد دونوں ملزمان نے اپنے تیسرے ساتھی عاشق علی کے ساتھ مل کر اپنی مجوزہ کاروائیوں کے لیے مزید افراد کو بھرتی کرنے اور مالی وسائل حاصل کرنے کے لیے خود کو مسلم خیراتی اداروں کا نمائندہ ظاہر کرکے چندہ بھی اکٹھا کیا تھا۔
XS
SM
MD
LG