رسائی کے لنکس

logo-print

برطانیہ میں دہشت گردی کی نئی لہر کا خدشہ


برطانیہ نے اندرون ملک دہشت گردی کی نئی لہر شروع ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ برطانوی وزارت دفاع اور ادارہ برائے سیکورٹی پالیسی کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جیلوں میں قیدانتہا پسند مسلمان رہائی کے بعد دہشت گردی کی نئی کارروائیاں شروع کرسکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایسے افراد کی تعداد سینکڑوں میں ہے اوریہ دورا ن جیل ہی انتہاپسند انہ رویہ اختیار کررہے ہیں۔
رائل یونائٹیڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ کا کہنا ہے کہ تقریباً آٹھ سو قیدی جنہیں دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا وہ آئندہ پانچ سے دس سالوں کے دوران جیل سے رہا کردیئے جائیں گے ۔ ان افراد کو قید کے دوران ہی اسلامی عسکریت پسندوں نے اپنا ہم خیال بنالیا ہے۔
رائل یونائٹیڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ مائیکل کلارک کا کہنا ہے کہ عسکریت پسند بڑے پیمانے پر حملوں کے لئے بھرتی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایسے افراد کو وہ معمولی تربیت اور محدود وسائل کے باوجود تربیت دیتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حملوں کو روکنا مشکل ہوسکتا ہے۔
دوسری جانب گارجین اخبار کی ایک خبر کے مطابق برطانیہ کی وزارت انصاف نے رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس بات پر یقین نہیں کیا جاسکتا کہ برطانیہ کی جیلوں میں بڑے پیمانے پر انتہاپسندسرگرمیاں ہوسکتی ہیں۔

XS
SM
MD
LG