رسائی کے لنکس

logo-print

کمبوڈیا: مظاہرین پر پولیس کی مبینہ فائرنگ سے تین افراد ہلاک


نیم فوجی یونٹ کے کمانڈر چاپ سوپورن کا کہنا تھا کہ فوجیوں نے صرف اس وقت جوابی کارروائی کی جب مظاہرین نے ان پر پتھر پھینکے۔

کمبوڈیا میں مظاہروں کے دوران پولیس کے ساتھ جھڑپ میں تین افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

دارالحکومت پنوم پن میں ملبوسات کی صنعت سے وابستہ مزدور اپنی اجرت میں اضافے کے لیے مظاہرہ کر رہے تھے۔

عینی شاہدین کے مطابق مظاہرین نے ایک سڑک بلاک کر دی اور پولیس پر پتھراؤ کیا جس کے بعد وہاں موجود اہلکاروں نے مظاہرین پر فائرنگ شروع کر دی۔

جمعرات کو مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اسپیشل فورس کی طرف سے کی جانے والی کارروائی میں 15 بدھ بھکشوؤں سمیت کم ازکم 20 افراد زخمی ہو گئے تھے۔

انسانی حقوق کی مقامی تنظیموں کا کہنا ہے کہ دارالحکومت کے قریب واقع ایک فیکٹری سے کم ازکم دس افراد کو حراست میں لیا گیا۔ تنظیموں نے تشدد اور اسپیشل کمانڈو فورسز کی تعیناتی کی شدید مذمت کی ہے۔

حزب مخالف کی جماعت نوتھ رومڈیول نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ سکیورٹی اہلکار شدید غصے میں دکھائی دیتے تھے۔

’’میں جب وہاں پہنچا تودیکھا کہ وہ (اہلکار) ہم پر شدید برہم تھے۔ ایک نوجوان جو وہاں کھڑا صرف دیکھ رہا تھا سکیورٹی اہلکاروں نے اسے چھڑیوں سے مارا اور اسے اپنے ساتھ لے گئے۔ وہ نہ تو مسلح تھا اور نہ ہی اس نے پتھراؤ کیا، یہ سب کچھ میری آنکھوں کے سامنے ہوا۔‘‘

لیکن نیم فوجی یونٹ کے کمانڈر چاپ سوپورن کا کہنا تھا کہ فوجیوں نے صرف اس وقت جوابی کارروائی کی جب مظاہرین نے ان پر پتھر پھینکے۔

کمبوڈیا میں گارمنٹس فیکٹریوں کے مزدوروں کی اکثریت اپنے اجرات میں اضافے کے لیے سراپا احتجاج اور ہڑتال پر ہے۔
XS
SM
MD
LG