رسائی کے لنکس

logo-print

برطانیہ کا یورپی یونین میں اصلاحات کا مطالبہ


برطانوی وزیرِاعظم کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ برطانیہ یورپی یونین کا حصہ رہے لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ یونین اپنے نظام میں اصلاحات لائے اور رکن ملکوں کی آزادی کا احترام کرے۔

برطانیہ کے وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ برطانیہ کے یونین سے اخراج کو روکنے کے لیے اپنے نظام میں اصلاحات متعارف کرائے۔

منگل کو لندن کے ایک تھنک ٹینک میں سفارت کاروں، کاروباری شخصیات اور صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے برطانوی وزیرِاعظم نے یورپی یونین سے متعلق اپنی پالیسی کی وضاحت کی۔

انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ برطانیہ یورپی یونین کا حصہ رہے لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ یورپی یونین اپنے نظام میں اصلاحات لائے اور رکن ملکوں کی آزادی کا احترام کرے۔

انہوں نے کہا کہ یونین کو مشترکہ کرنسی 'یورو' استعمال نہ کرنے والے ارکان کی معیشتوں کا تحفظ یقینی بنانا ہوگا۔

برطانوی وزیرِاعظم نے واضح کیا کہ اگر یورپی یونین ایک ہی کرنسی استعمال کرنے والے ممالک کا کلب بنی تو برطانیہ اس کا حصہ نہیں رہے گا۔

انہوں نے تجویز دی کہ یورپی یونین کو کوئی ایسا طریقہ کار وضع کرنا چاہیے جس کے ذریعے رکن ممالک یونین کی سطح پر ہونے والی ایسی قانون سازی کو روک سکیں جسے وہ اپنے قومی مفادات کے منافی سمجھتے ہوں۔

انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کو برطانیہ کے ساتھ ایک واضح اور ناقابلِ تنسیخ معاہدہ کرنا ہوگا جس کے تحت برطانیہ کو "یورپی یونین کے رکن ملکوں کو مزید قریب لانے" کی ذمہ داری سے آزادی مل سکے۔

انہوں نے کہا کہ برطانیہ براعظم یورپ کے ملکوں کا ایک ایسا اتحاد چاہتا ہے جس میں رکن ملکوں کو فیصلہ کرنے کی آزادی ہو اور ساتھ ہی ساتھ وہ اپنے عوام کے تحفظ، سلامتی اور ترقی کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ قریبی تعاون بھی کرسکیں۔

ڈیوڈ کیمرون کا کہنا تھا کہ وہ یونین کے رکن ملکوں کے مابین محنت کشوں کی آزادانہ نقل و حرکت کے حامی ہیں لیکن وہ چاہتے ہیں کہ تارکینِ وطن کی تعداد کا تعین کرنے سے متعلق حکومتوں کو زیادہ اختیار دیا جائے۔

ڈیوڈ کیمرون کی کنزرویٹو حکومت برطانیہ کے یورپی یونین کا حصہ رہنے کی حامی ہے لیکن یورپی یونین کے بڑھتے ہوئے اختیارات اور ملکی معاملات میں مداخلت پر اندرونِ ملک بڑھتی ہوئی مخالفت کے باعث برطانوی حکومت نے2017ء میں اس معاملے پر ریفرنڈم کا اعلان کر رکھا ہے۔

ڈیوڈ کیمرون اس کوشش میں ہیں کہ یورپی یونین ان کے مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے برطانیہ کو زیادہ آزادی کے ساتھ اپنے معاملات چلانے کی اجازت دیدے تاکہ وہ یونین کا حصہ رہ سکے۔

منگل کو اپنے خطاب میں برطانوی وزیرِاعظم نے واضح کیا کہ اگر 2017ء کے ریفرنڈم میں برطانوی عوام نے یورپی یونین سے نکلنے کے حق میں ووٹ دیا تو ان کا یہ فیصلہ حتمی ہوگا اور برطانیہ پھر اس معاملے پر یورپی یونین سے کوئی بات چیت کرنے یا دوسرا ریفرنڈم کرانے کے قابل نہیں ہوگا۔

XS
SM
MD
LG