رسائی کے لنکس

logo-print

برطانیہ: مسلم تاریخ کو کورس میں شامل کرنے کا مطالبہ


مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ایک وسیع معلومات رکھنے والا کورس مرتب کیا جائے۔ جس میں نہ صرف مسلمانوں کی تاریخ بلکہ دیگر مذاہب کے پیروکاروں کی خدمات کا بھی ذکر شامل ہونا چاہیے۔

یکساں انسانی حقوق پر یقین رکھنے والی ایک جماعت نے برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مسلم تاریخ کو برطانیہ کی 'تاریخ' کے تعلیمی کورس میں شامل کیا جائے تاکہ مسلمان طالب علموں میں اس مضمون سے لگاؤ پیدا ہو اور برطانوی طلباء بھی تاریخ میں رقم مسلمان سائنسدانوں اور فلاسفرز کی خدمات سے واقف ہو سکیں۔
برطانوی روزنامہ ہفنگٹن پوسٹ کے مطابق یہ مطالبہ اس وقت پیش کیا گیا ہے جب فروری کے مہینے میں برطانوی محکمہ ِتعلیم کی جانب سے تاریخ کے مضمون کے نئے کورس کی تفصیلات پر مبنی ایک مسودہ شائع کیا گیا ہے، جس کی منظوری کے لیے پارلیمان میں مشاورت جاری ہے۔
اس جماعت کے روح رواں میتھیو ولکنسن ہیں جن کا تعلق مسلم کمیونٹی سے ہے۔ جبکہ ان کی اس مہم میں ان کے ساتھ برطانوی اسکولوں کے اساتذہ پر مشتمل ایک گروپ بھی شامل ہے جن کا مقصد برطانوی تعلیمی کورس کی مدد سے برطانوی نوجوانوں میں باہمی یگانگت اور اپنائیت پیدا کرنے کی کوششیں کرنا ہے۔
تاہم اس مطالبے کو برطانوی مسلم کونسل اور رکن پارلیمان صادق خان، ربی اور جولیا نیوبرجر کی حمایت حاصل ہے۔ مطالبہ کرنے والوں کا کہنا ہے کہ موجودہ مسودے میں سے مسلمان اور اسلام سے متعلق تاریخی ادوار کا ذکر شامل نہیں کیا گیا ہے۔
لہذا ان کا مطالبہ ہے کہ ایک وسیع معلومات رکھنے والا کورس مرتب کیا جائے۔ جس میں نہ صرف مسلمانوں کی تاریخ بلکہ دیگر مذاہب کے پیروکاروں کی خدمات کا بھی ذکر شامل کیا جانا چاہیے۔ مثلا دونوں عالمی جنگوں میں مسلمانوں سمیت ہندو اور سکھ فوجیوں کی جدوجہد کو تاریخ کے مضمون کا حصہ بنانا چاہیے جبکہ قدیم گریک اور رومن تہذیبوں کےذکر کے علاوہ برطانیہ کا مسلم دنیا کے ساتھ طویل مدت تک تجارتی، سفارتی اور دیگر مراسم کی بنیاد پر قائم رہنے والے تعلقات کا ذکر شامل کیا جانا چاہیئے۔
XS
SM
MD
LG