رسائی کے لنکس

logo-print

ادب کا نوبیل انعام کینیڈین افسانہ نگار کے نام


ادب کے شعبے میں 2013ء کے 'نوبیل' انعام کا اعلان کرتے ہوئے منتظمین نے 82 سالہ کینیڈین لکھاری کو "عصرِ حاضر میں مختصر کہانیوں کی ماہر" قرار دیا۔

کینیڈا سے تعلق رکھنے والی افسانہ نگار ایلس منرو نے ادب کا 'نوبیل پرائز'جیت لیا ہے۔

سوئیڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں جمعرات کو ادب کے شعبے میں 2013ء کے 'نوبیل' انعام کا اعلان کرتے ہوئے منتظمین نے 82 سالہ کینیڈین لکھاری کو "عصرِ حاضر میں مختصر کہانیوں کی ماہر" قرار دیا۔

ایلس منرو نے اوائلِ عمری میں ہی لکھنا شروع کردیا تھا اور گزشتہ دہائیوں کے دوران ان کی کہانیوں کی کئی مجموعے منظرِ عام پر آچکے ہیں۔

انہیں اس سے قبل بھی ادب کے کئی ملکی اور بین الاقوامی انعامات مل چکے ہیں جن میں کینیڈا کا سب سے بڑا ادبی انعام 'گورنر جنرل پرائز' بھی شامل ہے۔

منرو ادب کا 'نوبیل' انعام حاصل کرنے والی 13 ویں خاتون ہیں۔ انہوں نے رواں سال کے اوائل میں عندیہ ظاہر کیا تھا کہ وہ لکھنا ترک کرسکتی ہیں۔

'نوبیل پرائز' کے لیے منتخب ہونے کے بعد اپنے پیغام میں ایلس منرو نے کہا ہے کہ انہیں دیا جانے والا یہ انعام لوگوں کو افسانے کی اہمیت باور کرانے میں معاون ثابت ہوگا جو، ان کے بقول، افسانے کو محض ناول نگاری کا پیش لفظ سمجھتے ہیں۔

معروف سائنس دان اور ڈائنامائٹ کے موجد الفریڈ نوبیل سے منسوب 'نوبیل پرائز' سب سے پہلے 1901ء میں سائنس، ادب اور امن کے شعبوں میں دیا گیا تھا۔ انعام جیتنے والوں کو 12 لاکھ ڈالر کی خطیر رقم ملتی ہے۔

ادب کے شعبے میں 1901ء سے اب تک کل 106 'نوبیل' انعامات دیے جاچکے ہیں۔

سوئیڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں قائم 'سوئیڈش اکیڈمی' ہر سال طب، طبیعات، کیمیا، ادب اور امن کے 'نوبیل' انعامات کا اعلان کرتی ہے۔

اعلانات کا یہ سلسلہ جمعے کو امن کے 'نوبیل' انعام کے اعلان کے ساتھ اختتام پذیر ہوگا جس کےلیے طالبان کے حملے میں زخمی ہونے والی پاکستانی طالبہ ملالہ یوسف زئی کو 'فیورٹ' قرار دیا جارہا ہے۔
XS
SM
MD
LG