رسائی کے لنکس

logo-print

چلی کا تباہ کن زلزلہ


چلی: تباہ کن زلزلے کے بعد کےجھٹکوں سے لوگوں میں خوف و ہراس

چلی کے مرکزی علاقے میں ایک بڑے تباہ کن زلزلےکے ایک روز بعد خوفزدہ لوگوں نے زلزلے کے بعد کے جھٹکوں کے خوف میں رات گھروں سے باہر گزاری۔

جنوبی امریکہ کے اس ملک میں آٹھ اعشاریہ آٹھ کی شدت کا یہ زلزلہ ہفتے کے روز صبح کے وقت آیا تھا۔ اس کے بعد 87 سے زیادہ زلزلےکے جھٹکے آچکے ہیں جن میں زلزلے کے بعد آنے والے جھٹکوں کے سلسلےمیں ایک چھ اعشاریہ نو کی شدت کے ایک زلزلےکا جھٹکا بھی شامل تھا۔

اس زلزلے میں تین سو سے زیادہ لوگ ہلاک اور 15 لاکھ گھروں کو نقصان پہنچ چکا ہے ۔

چلی کی صدر چلی بیچلے نے مرکزی چلی میں ہنگامی صورتحال کا اعلان کر دیا ہے جہاں زلزلے سے پل اور عمارتیں گر گئیں ، کاریں الٹ گئیں اور بجلی اور ٹیلی فون کا سلسلہ منقطع ہو گیا ۔ اور بہت سی سڑکیں ملبے سے ڈھک گئیں ۔آگ لگنےکی اطلاعات بھی ملی ہیں جب کہ کئی اسپتالوں کی عمارتیں بھی گر گئیں ہیں


صدر نے دوسرے ملکوں سے مدد کی درخواست نہیں کی ہے لیکن کئی ملکوں نے امداد بھیجنے کی پیش کش کی ہے ۔

زلزلے کے نتیجے میں بحرالکاہل کے قریب واقع ملکوں کے لیے خطرے کے انتباہ جاری کیے گئے تھے ، مگر طوفانی لہروں کی شدت توقع سے کم رہی۔

زلزلے کا مرکز چلی کے دوسرے سب سے بڑے شہر کانسپشن( Concepcion)سے تقریباً ایک سوکلومیٹر کے فاصلے پر واقع تھا۔

بڑی بڑی لہریں جون فرنینڈز کے قریبی جزیروں میں داخل ہوگئیں جس سے کم ازکم تین افراد ہلاک اورچار لاپتا ہوگئے ۔

دارالحکومت سین ٹیاگو میں حکام نے ہوائی اڈے کو پہنچنے والے نقصانات کے باعث اسے بند کردیا ہے۔

ارجنٹائن اور جنوبی ارمریکہ کے کچھ حصوں میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ۔

امریکی جیالوجیکل سروے نے کہا ہے کہ رکٹر سکیل پر آٹھ سے زیادہ قوت کے زلزلے کو شدید زلزلے کے درجے میں رکھا جاتا ہے اور اس سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوسکتی ہے۔

چلی کے اسی علاقے میں سب سے طاقت ور زلزلہ 1960 میں آیاتھا۔ اس کی شدت نواعشاریہ پانچ تھی جس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سمندری طوفان سونامی نے جاپان سمیت بحرالکاہل کے ملکوں میں تباہی مچادی تھی اور کم ازکم 16 سو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

XS
SM
MD
LG