رسائی کے لنکس

logo-print

چین: پاردی کو ’دھوکہ دہی و نقص امن‘ پر 12 سال قید کی سزا


پادری کے وکیل نے امریکی خبررساں ایجنسی ’’ایسوسی ایٹڈ پریس‘‘ کو بتایا کہ ان کے موکل کی گرفتاری کی وجہ کمیونٹی میں ان کا بڑھتا اثر و رسوخ تھا۔

چین میں ایک عدالت نے عیسائی پادری کو دھوکہ دہی اور نقص امن کے الزامات پر 12 سال قید کی سزا سنائی ہے۔

ژانگ شاوجئی کو دی جانے والی سزا کو ان کے پیروکار ’’کسی صورت قابل قبول نہیں سمجھتے‘‘۔

گزشتہ سال ہنان صوبے میں سرکاری طور پر قائم کردہ نینل کاؤنٹی کرسچن چرچ کے سربراہ کو مقامی انتظامیہ کے ساتھ زمین کے تنازع کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔

پادری کے وکیل نے امریکی خبررساں ایجنسی ’’ایسوسی ایٹڈ پریس‘‘ کو بتایا کہ ان کے موکل کی گرفتاری کی وجہ کمیونٹی میں ان کا بڑھتا اثر و رسوخ تھا۔

سرکاری طور پر ژانگ شاوجئی پر دھوکا دہی اور نقص امن کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

امریکہ میں قائم عیسائیوں کے حقوق سے متعلق ’’چائنا ایڈ‘‘ نامی تنظیم نے عدالت کے اس فیصلے کو ’’ مذہبی ایذا رسانی‘‘ قرار دیا۔

تنظیم کے سربراہ بوب فو نے ایک بیان میں کہا کہ ’’اس مقدمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ چینی حکومت بے گناہ عیسائی رہنما پر جھوٹے الزامات کے ذریعے مذہبی ایذا رسانی کے اقدام کو چھپانا جارہی رکھے ہوئے ہے۔‘‘

گوکہ نینل کاؤنٹی چرچ سرکاری طور پر منظور شدہ ہے تاہم تنظیم کے مطابق چرچ سے منسلک دوسرے افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔

سرکاری اعداوشمار کے مطابق چین میں دو کروڑ 30 لاکھ عیسائی آباد ہیں۔

XS
SM
MD
LG