رسائی کے لنکس

logo-print

نیوزی لینڈ میں قتل کے ملزم کے خلاف چین میں مقدمہ


نیوزی لینڈ میں قتل کے ملزم کے خلاف چین میں مقدمہ

اپنی نوعیت کے ایک منفرد مقدمے میں ایک چینی شہری نے چین کی ایک عدالت کے روبرو نیوزی لینڈ کے ایک ٹیکسی ڈرائیور کو قتل کرنے کا اعتراف کرلیا ہے۔

ژیاؤ زین کے خلاف منگل کو شنگھائی کی ایک عدالت نے مقدمے کی کارروائی کا آغاز کیا۔ زین پر الزام ہے کہ اس نے جنوری 2010ء میں آکلینڈ میں ہرن موہینی نامی ایک ٹیکسی ڈرائیور کو قتل کردیا تھا۔

عدالتی کارروائی کے دوران ملزم نے موہینی کو قتل کرنے کا اعتراف کیا۔

ژیاؤ وقوعہ کے کچھ روز بعد نیوزی لینڈ سے فرار ہوگیا تھا تاہم اسے گزشتہ برس جون میں شنگھائی میں گرفتار کرلیا گیا تھا۔

یہ پہلا موقع ہے کہ نیوزی لینڈ میں قتل کی واردات کے کسی ملزم کے خلاف کسی دوسرے ملک میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ چین و نیوزی لینڈ کے درمیان ملزمان کے تبادلے کا معاہدہ موجود نہیں۔

ملزم کے اہلِ خانہ نے سماعت کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے موہینی کے خاندان کو معافی کے لیے خط لکھا ہے۔

نیوزی لینڈ میں قتل کی تحقیقات پر مامورپولیس افسر اور مقامی مندارین زبان پر عبور رکھنے والے ان کے ایک ساتھی خصوصی طور پر مقدمہ کی کارروائی میں شریک ہونے کے لیے چین پہنچے ہیں۔

چین نے نیوزی لینڈ کی حکومت کو یقین دہانی کرائی ہے کہ اگر ژیاؤ کے خلاف قتل کا الزام ثابت ہوگیا تو اسے پھانسی کی سزا نہیں دی جائے گی۔

XS
SM
MD
LG