رسائی کے لنکس

logo-print

چین کی جانب سے پابندیوں کا کوئى جواز نہیں: امریکہ


پینٹاگان کا کہنا ہے کہ تائیوان کو اسلحے کی تازہ ترین فروخت میں بلیک ہاک ہیلی کاپٹر، پیٹریٹ میزائل ، ریڈار اور کمیونیکیشن کا سازو سامان شامل ہے


وہائیٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ تائیوان کو امریکی ہتھیاروں کی تازہ ترین فروخت کے خلاف جوابی کارروائى کے طور پر چین کی جانب سے امریکی کمپنیوں پر عائد کی جانے والی پابندیوں کا کوئى جواز نہیں ہے۔

امریکی عہدے داروں نے جمعے کے روز اعلان کیا تھا کہ امریکہ تائیوان کے ہاتھ چھ ارب 40 کروڑ ڈالر کا فوجی سازو سامان فروخت کرے گا۔ جس پر چین نے اُن امریکی کپمنیوں کے خلاف اس قسم کی کارروائی کرنے کی دھمکی دی تھی ، جو تائیوان کو اسلحہ فروخت کریں گی۔

وہائیٹ ہاؤس کے ترجمان رابرٹ گِبز نے پیر کے روز کہا ہے کہ ایسی پابندیوں کا کوئى جواز نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا ہے کہ امریکہ باہمی دلچسپی کے مسائل پر چین کے ساتھ مل کر کام کررہا ہے اور جب کبھی کوئى اختلافِ رائے ہوتا ہے تو وہ اس کا اظہار کردیتا ہے۔

بیجنگ تائیوان کو ایک سرکش صوبہ خیال کرتا ہے۔ اور اُس کی جانب سے یہ دھمکی برقرار ہے کہ اگر تائیوں نے باضابطہ آزادی کا اعلان کیا تو وہ جزیرے کے خلاف طاقت استعمال کرے گا۔

امریکہ کے تائیوان کے ساتھ کوئى باضابطہ سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔ لیکن وہ اُسے دفاعی مقاصد کے لیے ہتھیار فراہم کرتا ہے۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ تائیوان کے بارے میں امریکی پالیسی سے علاقے میں استحکام اور سلامتی کو تقویت ملتی ہے۔

ہفتے کے روز چین نے اعلان کیا تھا کہ وہ امریکہ کے ساتھ فوجی وفود کے تبادلوں اور سلامتی کے مسائل پر مذاکرات کو معطّل کررہا ہے۔

امریکہ کے محکمہ دفاع کا کہنا ہے کہ تائیوان کو اسلحہ کی فروخت کے تازہ ترین سودے میں بلیک ہاک ہیلی کاپٹر، پیٹرئیٹ میزائیل ، ریڈار سیٹ اورمواصلاتی سازو سامان شامل ہے۔

XS
SM
MD
LG