رسائی کے لنکس

logo-print

تائیوان کو اسلحے کی فروخت کا فیصلہ درست ہے: امریکہ


چین کی جانب سے جوابی کارروائى کی دھمکیوں کے بعد امریکہ نے ہفتے کے روز تائیوان کو فوجی سازوسامان فروخت کرنے کے منصوبے کی صفائى پیش کی ہے۔

امریکی محکمہٴ خارجہ کی ایک ترجمان لارا ٹِشلر نے واشنگٹن میں نامہ نگاروں سے کہا ہے کہ اس قسم کے ہتھیاروں کی فروخت سے آب نائے تائیوان کے آر پار سکیورٹی اور استحکام کو تقویت ملتی ہے۔

ہفتے کے روز اس سے پہلے چین نے اعلان کیا تھا کہ وہ امریکہ کے ساتھ فوجی وفود کے تبادلوں اور سلامتی کے مسائل پر مذاکرات کو معطّل کر رہا ہے۔ اور اُس نے تائیوان کو اسلحہ فروخت کرنے والی امریکی کمپنیوں کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی بھی دی ہے۔چین نے یہ قدم امریکہ کے اس منصوبے کے ردً عمل میں اُٹھایا ہے جس کا جمعے کے روز اعلان کیا گیا تھا اور جس میں کہا گیا ہے کہ امریکہ تائیوان کے ہاتھ چھ ارب 40 کروڑ ڈالر کا فوجی سازو سامان فروخت کرے گا۔
چین کے نائب وزیرِ خارجہ ہی یا فئى نے ہفتے کے روز بیجنگ میں امریکہ کے سفیر جان ہنٹس مین کو طلب کر کے باضابطہ احتجاج کیا ہے۔انہوں نے واشنگٹن پر زور دیا ہے کہ وہ اس سودے کومنسوخ کر دے، جسے انہوں نے چین کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اسلحے کا یہ سودا پُر امن طریقے سے تائیوان کے ساتھ دوبارہ اتحاد کے لیے چین کی کوششوں کے لیے نقصان دہ ہے۔

تائیوان میں صدر ما یِنگ چِیو نے کہا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب تائیوان چین کے کے ساتھ زیادہ قریبی اقتصادی تعلقات کو فروغ دے رہا ہے، اسلحے کے اس سودے سے جزیرے کے دفاع کو تقویت ملے گی اور یہ تحفظ کا احساس فراہم کرے گا۔

1949ء میں تائیوان کے الگ ہو جانے کے بعد سے کئى عشروں میں پہلی بار چین اور تائیوان کے درمیان تعلقات میں بہتری آئى ہے۔ لیکن تائیوان میں قوم پرست عناصر صدر ما پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ جزیرے کے اقتدارِ اعلیٰ کی قیمت پر چین کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کر رہے ہیں۔

امریکہ کے محکمہٴ دفاع نے جمعے کے روز کہا تھا کہ اُس نے کانگریس کو اپنے اُس منصوبے کی اطلاع دے دی ہے جس کہ تحت وہ تائیوان کے ہاتھ 60 بلیک ہاک ہیلی کاپٹر، پیٹریاٹ میزائل، ریڈار سیٹ اور مواصلاتی سازو سامان فروخت کرے گا۔ اس سودے میں وہ ایف 16جیٹ لڑاکا طیارے شامل نہیں ہیں، جو تائیوان حاصل کرنا چاہتا تھا۔

XS
SM
MD
LG