رسائی کے لنکس

پنٹاگان کے مشیر، کیمیائی اثرات کی روک تھام کے ماہر، ڈاکٹررشید چھوٹانی


گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے بعد سے اب تک امریکہ اور مغربی دنیا میں ایک سوال بار بار کیا جاتا ہے کہ کیا انتہا پسند بے گناہ انسانوں پر کسی قسم کے کیمیائی ہتھیار استعمال کر سکتے ہیں؟ اور اگر ایسا کیا گیا تو اس صورت میں یہ کیسے معلوم ہوگا کہ کوئی کیمیائی حملہ ہو چکا ہے۔
آپ کی ملاقات کروا رہے ہیں ڈاکٹر رشید چھوٹانی سے ،جو پچھلی دو دہائیوں سے تابکاری کے اثرات کے حوالے سے امریکی وزارت دفاع کے مشیر ہونے کے ساتھ ساتھ وبائی امراض اور صحت پر کیمیائی اثرات کی روک تھام کے ماہرہیں۔

ڈاکٹر رشید چھوٹانی نے امریکی محکمہ دفاع کے لئے ایک ایسا الرٹ سسٹم تیار کیا ہے جس کی مدد سے کسی کیمیائی یا حیاتیاتی دہشت گردی کی صورت میں معصوم انسانی جانیں بچائی جا سکتی ہیں؟

ڈاکٹر رشید چھوٹانی پچھلی دو دھائیوں سے پبلک ہیلتھ، بائیو ڈیفنس اور میڈیسن کے شعبے سے منسلک ہیں ، اس کے علاوہ مائیکرو بیالوجی ، انفیکشن ڈیزیز ،ڈرگ ڈیلولپمنٹ ،دیساسٹر میٹیگشن ، اور بائیو انفورمٹیکس جیسے شعبوں میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر چھوٹانی امریکہ میں تابکاری کے اثرات کے حوالے سے امریکی وزارت دففہ کے مشیر ہونے کے ساتھ، وبائی اور کیمیائی بیماریوں کے ماہربھی ہیں۔ مگر یہ سب کرنے کے بعد بھی رشید سمجھتے ہیں کہ ابھی اور بہت کچھ کرنا باقی ہے۔

رشید چھوٹانی کے والد بھی ایک ڈاکٹر تھے اور ایک لمبے عرصے تک کراچی کے سیمنٹ ہاسپٹل سے منسلک رہے جو اب کھارادر جنرل ہاپٹل کے نام سے جانا جاتا ہے اور پاکستان کے پرانے اسپتالوں میں سے ایک ہے۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے پاکستانی امریکی ڈاکٹر رشید چھوٹانی کوشش کر رہے ہیں کہ اپنے پیشے کے ذریعے پاکستان اور امریکہ کے عوام کو قریب لانے میں ایک کردار ادا کر سکیں کیونکہ ڈاکٹر چھوٹانی اور ان کے خاندان کو پاکستان چھوڑے ایک لمبا عرصہ ہوچکا ہے اسی لئے یہ کہتے ہیں کے اب امریکہ ان کا دوسرا گھر بن چکا ہے اور پاکستان اور امریکہ کے بیچ جو کچھ بھی ہوتا ہے اس سے ان کا اور ان کے خاندان کا براہراست تعلق ہے۔

زندگی میں صرف ذہین ہونا ہی کافی نہیں، ڈاکٹر چھوٹانی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہر انسان کو ذہانت کے ساتھ ایک ایسے منٹور یا استاد کی ضرورت ہوتی ہے جو ایک پیشہ ورانہ زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے آپ کی مدد کر سکے۔

ڈاکٹر ڈی اے ہنڈرسن ایک امریکی ڈاکٹر اور سائنس دان ہیں جنہوں نے امریکہ کا پہلا بائیو ڈیفنس پروگرام تشکیل دیا تھا اور جنہوں نے رشید چھوٹانی کی امریکہ میں اس وقت مدد کی تھی جب ڈاکٹر چھوٹانی کے پاس نہ تو نوکری تھی اور نہ ہی رہنمائی ۔

ڈاکٹر ہنڈرسن بتاتے ہیں کہ رشید چھوٹانی کی سب سے اچھی عادت سوالات پوچھنے کی تھی ۔

رشید چھوٹانی کا کہنا ہے کہ اس وقت دنیا میں زیادہ تر بیماروں اور وباوٴں کے وکسینس امریکی محکمہ دفاع کی مدد سے بنائے گئے ہیں کیوں کہ ان پر اتنی لاگت آتی تھی کہ اس سے پہلے ان ویکسنیس کو کوئی فنڈ کرنے کے لئے تیار ہی نہیں تھا باوجود اس کے ان ویکسینس سے انسانی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔

امریکی ریاست میری لینڈ کے رکن کانگریس جان ساربانس ڈاکٹر چھوٹانی کے پرانے دوست ہیں ،کیونکہ جان ساربانس کے والدین بھی امریکہ ہجرت کرکے آئے تھے اسی لئے دونوں میں دوستی گہری ہوتی چلی گئی۔ دونوں کی ملاقات تب ہوئی جب ڈاکٹر چھوٹانی کو جان ساربانس کی والدہ، جو یونیسف سے منسلک تھیں، کے ساتھ بچوں کی صحت کے حوالے سے کام کرنے کا موقع ملا۔

رکن کانگریس جان ساربانس کہتے ہیں کہ ڈاکٹر چھوٹانی کے دوست آپ کو ہر حلقے میں ملیں گے اور اس کی ایک وجہ رشید چھوٹانی کا اپنے پیشے سے لگن اور برداری کے ہر فرد کے ساتھ احترام اور عزت سے پیش آنا ہے۔

ڈاکٹر رشید چھوٹانی کو قدرتی آفت کے دوران دنیا کے مختلف ممالک میں کام کرنے کا بھی موقع ملا جیسے انڈونیشیاء ، پاکستان اور سری لنکا ۔ کیونکہ بقول ڈاکٹر چھوٹانی کے قدرتی آفت کے دوران انھیں مسلمان رضاکار کم نظر آتے ہیں۔ وو سمجھتے ہیں کہ جب کبھی بھی کہیں پر کوئی قدرتی آفت آتی ہے تو وو مسلمان جو دنیا کے دوسرے ملکوں میں متاثرین کی امداد کرسکتے وو کسی کی مدد کرنے سے کبھی نہ گھبرائیں ، چاہے اس انسان کا مذہب یا ثقافت آپ سے کتنی ہی مختلف کیوں نہ ہو۔

رشید چھوٹانی کا ایک اور پیغام ہے اور وہ یہ کہ اگر آپ کسی چیز پر یقین رکھتے ہیں اور اسے حاصل کرنا چاہتے ہیں تو کبھی ہمّت نہ ہاریں۔

XS
SM
MD
LG