رسائی کے لنکس

logo-print

ہلری کلنٹن کوسٹاریکا میں: امریکی پالیسیوں کا دفاع


امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن کوسٹاریکا میں ہیں جہاں وہ لاطینی امریکہ کے رہنماؤں سے جمہوریت اور ترقی پر تبادلہٴ خیال کریں گی۔ کلنٹن برازیل سے کوسٹاریکا پہنچی ہیں۔

کلنٹن جمعرات کے دن ہونے والی ’خوش حالی کی راہ‘ نامی کانفرنس میں شرکت کر رہی ہیں۔ اس کانفرنس میں پرو، ہنڈوراس اور گوئٹے مالا سمیت لاطینی امریکہ کے کئی ممالک حصہ لے رہے ہیں۔

وہ کانفرنس کے آغاز سے قبل کوسٹاریکا کے دارالحکومت سان ہوزے میں سرمایہ کار خواتین سے بھی ملاقات کریں گی۔

برازیل میں صدر لوئس دا سلوا سے ملاقات میں انھوں نے صدر اوباما کی خارجہ پالیسیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ صدر مختلف ملکوں سے رابطے استوار کر رہے ہیں اور خارجہ پالیسی کام کر رہی ہے۔

برازیل کے صدر نے کہا کہ وہ برازیل کی طرح ایران کے لیے بھی یہ حق چاہتے ہیں کہ وہ پرامن مقاصد کے ایٹمی توانائی کے حصول میں ترقی کرے۔

امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ امریکہ وینزویلا کے ساتھ بھی مثبت تعلقات قائم کرنا چاہتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ گذشتہ برس براعظم امریکہ کے سربراہی اجلاس میں صدر اوباما نے وینزویلا کے صدر اوگو چاویس کے ساتھ ہاتھ ملایا تھا۔

کلنٹن نے برازیل کے وزیرِ خارجہ کے ساتھ ایک اخباری کانفرنس میں کہا کہ انھیں شبہ ہے کہ ایران اچھے ارادوں کے ساتھ کوئی سمجھوتا کرے، جب تک کہ سلامتی کونسل نئی پابندیوں کے منظوری نہیں دے دیتی۔ انھوں نے کہا کہ مذاکرات کا راستا کھلا ہے اور ہم نے اسے کبھی بند نہیں کیا، لیکن ہم دور دور تک کسی کو اس کی طرف بڑھتے ہوئے نہیں دیکھ رہے۔ ہمارے سامنے ایک ایسا ایران ہے جو برازیل کی طرف بڑھتا ہے، ترکی کی طرف جاتا ہے، چین کا رخ کرتا ہے اور بین الاقوامی پابندیوں سے بچنے کے لیے مختلف باتیں بناتا ہے۔

اوباما انتظامیہ اپنے یورپی حلیفوں کی مدد سے ایران کے خلاف پابندیوں کی چوتھی قرارداد کے لیے کوشاں ہے۔ اس سے قبل ایران نے ایٹمی ادارے کی طرف سے نومبر میں اعتماد سازی کی پیش کش کو نظر انداز کر دیا تھا۔

XS
SM
MD
LG