رسائی کے لنکس

logo-print

ہلری کلنٹن کا دورہٴ مشرقِ وسطیٰ مکمل


اسرائیل فلسطینیوں کے درمیان مشرقِ وسطیٰ امن مذاکرات کا دوسرا دور مکمل ہونے پر، جِس میں بستیوں کی تعمیر کے کلیدی معاملے پر کوئی واضح پیش رفت نہیں ہوپائی، امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن وطن روانہ ہوگئی ہیں۔

دو روز تک ہلری کلنٹن نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجمن نتن یاہو اور فلسطینی صدر محمود عباس کے مابین بالمشافیٰ بات چیت کی ثالثی کی۔

مسٹر نتن یاہو کے دفتر نے جمعرات کو ایک بیان جاری کیا جِس میں کہا گیا ہے کہ مغربی کنارے میں بستیوں کی تعمیر پر عارضی پابندی کے عرصے میں اضافے کا اسرائیل کا کوئی ارادہ نہیں ، جس کی میعاد 26ستمبر کو ختم ہورہی ہے۔ تاہم، بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیرِ اعظم کا تعمیرات کے مستقبل پر قدغن لگانے کا کوئی ارادہ نہیں۔

فلسطینیوں نے دھمکی دی ہے کہ وہ امن مذاکرات سے اُٹھ کر چلے جائیں گے اگر اسرائیل تعمیر پر عارضی پابندی اُٹھا لیتا ہے جس خطے پر وہ مستقبل میں اپنی ریاست قائم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

جمعرات کو مصری صدر حسنی مبارک نے مسٹر نتن یاہوپر زور دیا کہ امن کےعمل کو موقع دینے کے لیے آبادکاری پر پابندی کی میعاد کو کم از کم تین ماہ کے لیے بڑھا دیا جائے۔

اردن کے شہر عمان جا کر، ہلری کلنٹن نے علاقے کا دررہ مکمل کرلیا جہاں اُنھوں نے شاہ عبد اللہ کے ساتھ دوپہر کے کھانے پر ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد کلنٹن نے کہا کہ مسٹر نتن یاہو اور مسٹر عباس پُر عزم ہیں اور اُنھوں نے سخت لیکن ضروری سوالات کا توڑ تلاش کرنے کا آغاز کر لیا ہے۔

فلسطینی ترجمان نبیل ابو ردینہ نے مذاکرات کو سنجیدہ نوعیت کا قرار دیا۔ اُنھوں نے کہا کہ اگلے ہفتے نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران یہ گفتگو جاری رہے گی۔

اسرائیل اور فلسطینیوں کو درپیش دیگر اہم معاملات میں فلسطینی ریاست کی سرحدیں، اسرائیل کے لیے سکیورٹی کی ضمانتیں، یروشلم کی حیثیت اور فلسطینی مہاجرین کے حقوق شامل ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکی ایلچی جارج مچل ، جو کلنٹن کے ہمراہ علاقے کے دورے پر تھے، جمعرات کو دمشق پہنچ چکے ہیں۔ وہ اسرائیل شام امن کےعمل کا اجرا کرنے کے سلسلے میں صدر بشر الاسد کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG