رسائی کے لنکس

دبئی: وائٹ ہاؤس عملے کی ہیکنگ کا الزام، غیر ملکی ٹولہ گرفتار


روزنامہ ’البیان‘ نے دبئی پولیس کے میجر سعود الخالدی کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ ’’افریقی ٹولہ‘‘ پانچ سینئر اہل کاروں کی اِی میلز میں داخل ہوا، اور ’’انتہائی درجے کی صیغہٴ راز کی نوعیت کی معلومات‘‘ تک پہنچا۔ اُنھوں نے بتایا کہ امریکہ نے دبئی پولیس سے مدد طلب کی تھی

دبئی پولیس نے غیر ملکی ہیکروں کو گرفتار کیا ہے جنھوں نے بلیک میل کی نوعیت کے اِی میل اسکینڈل میں وائٹ ہاؤس کے پانچ سینئر اہل کاروں کو ہدف بنایا تھا۔ یہ بات پیر کے روز سرکاری تحویل میں کام کرنے والے ذرائع ابلاغ نے بتائی ہے۔

اِن گرفتاریوں کی خبر عربی زبان کے روزنامے ’البیان‘ اور ٹیلی ویژن چینل ’دبئی ون‘ نے دی ہے، جب کہ دبئی پولیس نے بار بار رابطے کے باوجود کوئی بیان نہیں دیا۔

یہ گرفتاریاں ایسے میں سامنے آئی ہیں جب متحدہ عرب امارات، جو داعش کے شدت پسند گروپ کے خلاف نبردآزما 4000امریکی فوجیوں کی میزبانی کر رہا ہے، وہ خطے کا ایک اہم اتحادی ہے۔

’البیان‘ نے دبئی پولیس کے میجر سعود الخالدی کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ ’’افریقی ٹولہ‘‘ پانچ سینئر اہل کاروں کی اِی میلز میں داخل ہوا، اور ’’انتہائی درجے کی صیغہٴ راز کی نوعیت کی معلومات‘‘ تک پہنچا۔ اُنھوں نے بتایا کہ امریکہ نے دبئی پولیس سے مدد طلب کی تھی۔


الخالدی کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ تفتیش کاروں نے اس ٹولے کو تلاش کیا، جو اجمان کے ایک اپارٹمنٹ میں رہتا تھا، جن تینوں مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ اُن کی عمریں 24 اور 26 برسوں کے درمیان ہیں۔ اُنھوں نے بتایا کہ اِن مشتبہ افراد کے پاس سے بینک کے 50 لاکھ اکاؤنٹ کی فہرست کے علاوہ ہیکنگ کا سافٹ ویئر اور لاکھوں ڈالر کے اثاثے برآمد ہوئے ہیں۔

میجر نے کہا کہ یہ تینوں افراد چند برس قبل ’وزیٹر ویزا‘ پر متحدہ عرب امارات پہنچے تھے۔

خبروں میں وائٹ ہاؤس کے اِن اہل کاروں کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔ الخالدی کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اِن مشتبہ افراد کو امریکہ کے حوالے کیا جائے گا، جن پر ممکنہ طور پر مجرمانہ سرگرمی پر مقدمہ چلایا جائے گا۔

ابو ظہبی میں واقع امریکی سفارت خانے نے درخواست کے باوجود کوئی بیان جاری نہیں کیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG