رسائی کے لنکس

logo-print

مصر: مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی، کم از کم 13 افراد ہلاک


عینی شاہدین کے مطابق، ریلیوں کو منتشر کرنے کے لیے پولیس فوری طور پر حرکت میں آگئی۔ یہ مظاہرے قاہرہ، اسماعیلیہ، الیگزینڈریا اور غِیزا میں ہوئے

مصر کے حکام کا کہنا ہے کہ جمعے کے دِن مصر میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں کم از کم 13 افراد ہلاک ہوئے۔

یہ ہلاکتیں اُس وقت واقع ہوئیں جب پولیس نے ہزاروں کی تعداد میں اخوان المسلمون کے حامیوں کی طرف سے معزول صدر، محمد مرسی کی بحالی کے لیے کیے گئے مظاہروں کو منتشر کرنے کے لیے کارروائی کی۔

عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ ریلیوں کو منتشر کرنے کے لیے پولیس فوری طور پر حرکت میں آگئی۔ یہ مظاہرے قاہرہ، اسماعیلیہ، الیگزینڈریا اور غِیزا میں ہوئے۔

اِس سے قبل، حکام نے انتباہ جاری کیا تھا کہ وہ اخوان کی طرف سے مزید احتجاج کو برداشت نہیں کریں گے۔ جِس سے قبل، گذشتہ ماہ، اِس اسلام پرست گروہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا جا چکا ہے۔

مصر کی وزارتِ صحت نے بتایا ہے کہ مرنے والوں کا تعلق قاہرہ سے ہے. تاہم، اُنھوں نے یہ نہیں بتایا آیا ہلاک ہونے والے پولیس کے اہل کار، مظاہرین یا پھر راہگیر تھے۔

120 سے زیادہ افراد کو گرفتار کیے جانے کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔

فوج کی حمایت سے چلنے والی حکومت، جِس نے گذشتہ جولائی میں مسٹر مرسی کو اقتدار سے ہٹایا تھا، دہشت گرد تنظیم قرار دیے جانے کے فیصلے کو اخوان المسلمون کے سینکڑوں افراد کو گرفتار کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ مزید ہزاروں افراد کو، جِن میں اخوان راہنما بھی شامل ہیں، اُنھیں مہینوں سے قید میں رکھا گیا ہے۔
XS
SM
MD
LG