رسائی کے لنکس

logo-print

راک اینڈ رول کا بے تاج شہنشاہ ایلوس پریسلی


ایلوس کی موسیقی آج بھی لاکھوں دلوں کی دھڑکن ہے


دنیا بھر میں موسیقی کی صنف راک اینڈ رول سے دلچسپی رکھنے والوں نے گذشتہ جمعہ کو اس فن کے بے تاج شہنشاہ کہلانے والے فنکارایلوس پریسلی کی 75 ویں سالگرہ منائی۔ اس موقع پر ریاست ٹینیسی کے شہر میمفس میں واقع ان کے گھر گریس لینڈ میں، ایک خصوصی تقریب منقعد ہوئی جس میں ان کے پرستاربڑی تعداد میں شریک ہوئے۔

1950 کی دہائی میں ایلوس پریسلی نے موسیقی کی ایک نئی صنف متعارف کرائی، جو امریکی علاقائی موسیقی، بلوز اور روک اینڈ رول کا ایک حسین امتزاج تھی۔ کولہے مٹکاتے، افریقی فنکاروں کی طرح رقص کرتے ایلوس جب سٹیج پر آئے تو لوگوں کی سمجھ میں نہیں آیا کہ اس کے بارے میں کیا کہیں۔ لیکن جلد ہی لوگ ان کی موسیقی پر جھومنے لگے۔ اور ایلوس پریسلی روک اینڈ رول کے بادشاہ کہلانے لگے۔

برنارڈ لانسکی ایلوس کو سکول کے زمانے سے جانتے ہیں۔ لانسکی اس وقت ایک ایسے علاقے میں کپڑوں کی ایک دکان کے مالک تھے جہاں سیاہ فام افراد کی اکثریت تھی اور ان کےموسیقی کے کلب تھے۔ ایلوس کو ان کے بنائے ہوئے کپڑے بہت پسند تھے۔ ایک دن لانسکی نے ایلوس کو دکان میں بلایا۔ وہ کہتے ہیں کہ ایلوس نے کہا، میرے پاس پیسے نہیں ہیں، لیکن ایک دن میں تمھاری یہ دکان خرید لوں گا۔ میں نے کہا، مہربانی کرکے، تم یہ دکان نہیں، مجھ سے کچھ کپڑے خرید لینا۔

ایلوس کو ایسا لباس پسند تھا جسے پہن کر وہ دوسروں سے منفرد دکھائی دیں۔ لانسکی نے ایلوس کو کچھ کپڑے ادھار دیئے۔ کچھ ہی عرصے بعد ایلوس ایک سٹار بن گئے۔ اور لانسکی کے مستقل گاہک بھی۔ لانسکی نے ان کی گاڑی کے رنگ کی مناسبت سے نہایت شوخ رنگوں میں انکے لباس تیار کیے۔ جو وہ آج بھی بیچتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں انکے کپڑوں کے کھڑے کالرز بناتا تھا، وہ کہتے تھے کہ اس سے میرے بال خراب ہو جاتے ہیں۔ میں نے کہا، یہ اچھا لگتا ہے۔ تم ایسے مختلف نظر آتے ہو۔

اسی طرح جارج کلین ایلوس کو نوجوانی میں ملے اوروہ اچھے دوست بن گئے۔ جارج کہتے ہیں کہ ایلوس میرا سب سے گہرا دوست تھا، میں ہر روز اس کے بارے میں سوچتا ہوں۔

کلین میمفس مافیا نامی ایک گروپ کے ممبر تھے جنھوں نے ایلوس کے ساتھ سفر کیا اور انکے گھر گریس لینڈ میں انکے ساتھ رہے۔ ایلوس اپنی وفات تک اس گھر میں 20 سال رہے۔ 1970 ءکے سٹائل میں سجایا گیا یہ گھر آج بھی لوگوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ جارج کہتے ہیں کہ یہ ایک پرسکون جگہ ہے، ایلوس یہاں بہت اچھا محسوس کرتے تھے۔

کلین کا کہنا ہے کہ گریس لینڈ ایلوس کے لیے ایک فرار تھا، ایک ایسی دنیا سے جہاں ہر کوئی انھیں جانتا تھا۔

جارج کا کہنا ہے کہ رات دس بجے سے صبح چار بجے تک، ہم پوری رات موسیقی سنتے اور ٹیلی ویژن دیکھتے۔

جیسے جیسے روک میوزک بدلتا رہا، ایلوس بھی اپنی موسیقی میں تبدیلیاں لاتے رہے۔ ہر سال ٹاپ 40 میں انکا ایک نغمہ ہوتا۔ لیکن اتنے زیادہ مشہور نغموں کے باوجود ایلوس صرف 3 امیریکن گرامی ایوارڈز جیت پائے۔ اور یہ تینوں عیسائیت سے متعلق نغموں پر ملے۔ ایلوس نے اپنی نوجوانی میں چرچ میں گانا شروع کیا تھا۔

جارج کہتے ہیں کہ چرچ میں گانا ایلوس کو پسند تھا۔

ایلوس نے 30 سے زائد فلموں میں بھی گایا۔ اگرچہ ان کا فلمی سفر بہت نفع بخش رہا لیکن ایلوس ہمیشہ اچھے کرداروں کی تلاش میں رہے۔

جارج بتاتے ہیں کہ اپنی فلموں کے حوالے سے ایلوس ہمیشہ مایوسی کا شکار رہے۔ جب بھی میں نے ان سے نئی فلم کے بارے میں پوچھا، وہ کہتے، وہی پرانی کہانی لیکن نئی جگہ۔ میں لڑتا ہوں، 12 گانے گاتا ہوں اور لڑکی حاصل کر لیتا ہوں۔

16 اگست 1977، ایلوس اپنےگھر گریس لینڈ میں وفات پا گئے، ان کی عمر 42 سال تھی۔ انھیں برنارڈ لانسکی کے بنائے ہوئے ایک سفید لباس میں سپرد خاک کیا گیا۔

گریس لینڈ میں آنے والے لاکھوں لوگوں میں آدھے سے زیادہ کی عمریں35 سال سے کم تھیں۔ یہ وہ شائقین تھے جو ان کی وفات کے وقت پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ ایلوس کی موسیقی آج بھی لاکھوں دلوں کی دھڑکن ہے۔ اگر وہ زندہ ہوتے تو 75 سال کے ہوتے لیکن انکے مداحوں کے لیے انکی موسیقی ہمیشہ جوان رہے گی۔

XS
SM
MD
LG